صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 349
صحيح البخاری جلد 4 ۳۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء حرص و تمنا کرنے والوں کا قول وَيُكَأَنَّ الله ابوعبیدہ کے نزدیک بمعنی اَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ ہے۔یعنی تو نے نہیں دیکھا اور قطرب کے نزدیک کلمہ تأسف ہے جس کے معنی ہیں وائے ، ہائے افسوس۔یہ قطرب مشہور بصری نحوی ہیں، ابوعلی مستنیر کنیت ولقب سے معروف ہیں۔اور ار جوزہ قطر بیہ انہی کا ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے۔يَا مُولَعًا بِالْغَضَبُ وَالْهَجْر وَالتَّجَنُّب اے وہ جو غضب اور ترک ملاقات اور کنارہ کشی کا فریفتہ ہے۔(معجم المطبوعات جلد دوم صفحه ۱۵۱۶) یہ بڑے پایہ کے عالم اور مذہبا معتزلی تھے۔ریگان کی جو شرح انہوں نے کی ہے وہ سباق کلام سے مناسبت رکھتی ہے۔ابوعبیدہ والی شرح کی تائید میں امام ابن حجر نے ایک حوالہ بطور استشہاد نقل کیا ہے جو کسی شاعر کا ہے۔کہتا ہے: وَيُكَأَنَّ مَنْ يَكُن لَّهُ نَشَبٌ يُحَبَّبُ وَمَنْ يَفْتَقِرْ يَعِشُ عَيْشَ ضُرٍ دیکھتے نہیں جس کے پاس سونا چاندی ہو وہ محبوب ہوتا ہے اور جو محتاج ہو وہ تکلیف کی زندگی بسر کرتا ہے ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۴۵) دونوں مفہوم ہی درست ہیں۔پوری آیت یہ ہے: اِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمٍ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْهِمْ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أولى الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ ) (القصص:۷۷) قارون در اصل موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر وہ انہی کے خلاف ظلم پر آمادہ ہو گیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ جن کی کنجیاں ایک مضبوط جماعت کے لئے بھی اُٹھانا مشکل تھیں۔( یاد کر ) جب اس کی قوم نے اسے کہا (اتنا) مخرمت کر۔اللہ فخر کرنے والوں کو یقینا پسند نہیں کرتا۔باب ہذا کے تحت کوئی روایت درج نہیں۔امام موصوف نے وہ تمام غیر مستند روایات نظر انداز کر دی ہیں جو قارون سے متعلق بیان کی جاتی ہیں کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف الزام تراشی اور انہیں بدنام کرنے کی غرض سے فاحشہ عورتوں کی مدد حاصل کی تا آئے دن ان کے وعظ ونصیحت اور تنبیہ و تو یخ سے وہ اور اس جیسے متمول اور متمر دلوگ ان سے مخلصی پائیں۔قارون کا عبرانی نام قورح ہے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے قبیلہ بن لاوی میں سے تھا۔اس کا ذکر عہد قدیم کی کتاب گنتی باب میں ملاحظہ ہو۔جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف اس کے علم بغاوت بلند کرنے کا مفصل ذکر ہے۔آپ کی بددعا سے آخر وہ اور اس کے اڑھائی سو ساتھی زلزلہ سے جیتے جی پاتال میں سما گئے اور ان کا گھر بار اور مال و اسباب سب زمین کے پھٹنے سے چشم زدن میں بھسم ہو گیا۔( گنتی باب ۱۶ آیات ۳۱ تا ۳۵) امام بخاری نے سابقہ ابواب کے تسلسل میں یہ باب اس غرض سے قائم کیا ہے کہ تا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا نمونہ تم دو بغاوت اور سرکشی دکھایا جائے۔دنیا کے مال و منال کی غایت درجہ حرص و آز میں اب تک قوم یہود شہرہ آفاق ہے۔نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں اس کا تزکیہ نفس ہو سکا اور نہ ان کے بعد۔اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قدسی ملاحظہ ہو۔غزوہ حنین کے موقع پر تقسیم اموال پر جو آپ نے داد و دہش فرمائی اور انصار کو عمد نظر انداز فرمایا تو چند ایک نو عمر انصاری متعجب ہوئے اور کہنے لگے : دشمنوں کو مغلوب تو ہماری تلواریں کریں اور ان سے خون ٹپک رہا