صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 348
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء علامہ طبرانی و ثعلبہی کی تفسیر اور کرمانی و غیر ہم علماء ربانی کے اقوال بھی بطور تائید امام موصوف نے نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی افضلیت کا ذکر بھی مستند احادیث میں وارد ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۴۴٬۵۴۳) اور قرآن مجید کی اس صریح آیت کے بھی خلاف ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًاه ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ ۖ وَكَفَى بِاللهِ عَلِیمان (النساء: ۱۷۰) یعنی جو بھی اللہ اور اس رسول ( محمد مصطفی ع ل ل ا ل ل ) کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے گا جن پر اللہ نے انعام کیا۔یعنی نبی ، صدیق، شہید اور صالح اور یہ لوگ رفاقت کے لحاظ سے بہت اچھے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ جاننے کے لحاظ سے کافی ہے۔بَاب :۳۳: اِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى الْآيَةَ (القصص: ۷۷) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ) قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔۔۔۔وَيْكَانَ اللهَ (القصص: ۸۳) مِثْلُ أَلَمْ لَتَنُوا لَتَنْقُلُ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُولِي لَتَنُوءُ کے معنی ہیں لتنقل یعنی بو جھل ہوتیں۔حضرت الْقُوَّةِ لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرّجال ابن عباس نے کہا: اُولِی الْقُوَّةِ فرمایا۔معنی یہ ہیں کہ يُقَالُ الْفَرِحِينَ (القصص: ۷۷) الْمَرِحِيْنَ آدمیوں کی ایک مضبوط جماعت بھی ان کنجیوں کو اُٹھا نہیں سکتی تھی۔اور فَرِحِینَ کے معنی ہیں اترانے والے مغرور وَيُكَأَنَّ الله كے معنى أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ تَرَ أَنَّ اللهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَبْسُط کی طرح ہیں۔یعنی کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (القصص: (۸۳) (الروم: ۳۸ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کی کشائش کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔وَيُوَسِعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ۔تشریح: إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمٍ مُوسى اس آیت میں مخازن قارون کی بابت لتنوءُ جو وارد ہوا ہے اس کے معنی ہیں لتفقُلُ۔یعنی وہ اتنے بوجھل تھے کہ مردوں کی ایک مضبوط جماعت ان کو بمشکل اُٹھا سکتی تھی۔مَفَاتِح جمع ہے مُفتح کی جس کے معنی ہیں مخزن خزانہ گنر یعنی دفینہ۔گنز اور مَفَاتِح ہم معنی ہیں۔(لسان العرب - فتح) إِنَّ مَفَاتِحَہ میں ضمیر ہ قارون کی طرف عود کرتی ہے۔لتنوء بمعنی لتطفل ہے یعنی بمشکل اٹھتے تھے۔یہ معنی حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور غضبة کا لفظ دس مردوں پر بھی اطلاق پاتا ہے اور پندرہ سے چالیس پر بھی۔اور فَرِحِین کے معنی مرچین بھی انہی سے مروی ہیں اترانے والے۔لا تفرح اپنے مال و دولت کا گھمنڈ نہ کر۔اور ابن ابی طلحہ سے لَا تَبْطِرُ منقول ہیں۔یعنی شیخی نہ کر اور اس کے فضل کا نا شکر گزار نہ ہو اور قارون کی دولت مندی کے لئے