صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 348
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۴۸ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء علامہ طبرانی و تقلبی کی تفسیر اور کرمانی و غیر ہم علماء ربانی کے اقوال بھی بطور تائید امام موصوف نے نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کی افضلیت کا ذکر بھی مستند احادیث میں وارد ہے۔ (فتح الباری جزء۶ صفحہ ۵۴۴٬۵۴۳) اور قرآن مجید کی اس صریح آیت کے بھی خلاف ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالـ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًاه ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا ) (النساء: ۷۰، ۷۱) یعنی جو بھی اللہ اور اس رسول ( محمد مصطفی ) کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے گا جن پر اللہ نے انعام کیا ۔ یعنی نبی ، صدیق، شہید اور صالح اور یہ لوگ رفاقت کے لحاظ سے بہت اچھے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ جاننے کے لحاظ سے کافی ہے۔ بَاب ٣٣ : إِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى الْآيَةَ (القصص: ۷۷) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ) قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔۔۔۔ صلى الله )عليه لَتَنُوا لَتَثْقُلُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُولِي لَتَنُوءُ کے معنی ہیں لتنقل یعنی بوجھل ہوتیں۔ حضرت الْقُوَّةِ لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ۔ ابن عباس نے کہا: أُولِی القُوَّةِ فرمایا۔ معنی یہ ہیں کہ يُقَالُ الْفَرِحِينَ (القصص: ۷۷) الْمَرْحِيْنَ آدمیوں کی ایک مضبوط جماعت بھی ان کنجیوں کو اُٹھا نہیں سکتی تھی۔ اور فَرِحِینَ کے معنی ہیں اترانے وَيْكَانَ الله (القصص: ۸۳) مِثْلُ أَلَمْ والے مغرور وَيُكَأَنَّ اللَّهَ کے معنی أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَبْسُطُ کی طرح ہیں۔ يَبْسُطُ کی طرح ہیں۔ یعنی کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ کرتا ہے اور يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (القصص: ۸۳) (الروم: ۳۸) جس کے لئے چاہتا ہے روزی کی کشائش کرتا وَيُوَسِعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ۔ جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ و جو وارد ہوا تشريح : إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى : اس آیت میں مخازن قارون کی بابت لتنوءُ جو ہے اس کے معنی ہیں لَقُلُ ۔ یعنی وہ اتنے بوجھل تھے کہ مردوں کی ایک مضبوط جماعت ان کو بمشکل اُٹھا سکتی تھی۔ مفاتح جمع ہے مفتح کی جس کے معنی ہیں مخزن ، خزانہ ، گنز یعنی دفینہ ۔ گنز اور مفاتح ہم معنی ہیں۔ (لسان العرب - فتح) إِنَّ مَفَاتِحَہ میں ضمیر ہ قارون کی طرف عود کرتی ہے۔ لَتَنوء بمعنی لَتَنْقُلُ ہے یعنی بمشکل اٹھتے تھے۔ یہ معنی حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور عُصبة کا لفظ دس مردوں پر بھی اطلاق پاتا ہے اور پندرہ سے چالیس پر بھی۔ اور فَرِحِین کے معنی مَرحِین بھی انہی سے مروی ہیں اترانے والے ۔ لا تفرح اپنے مال و دولت کا گھمنڈ نہ کر۔ اور ابن ابی طلحہ سے لا تَبْطِرُ منقول ہیں۔ یعنی شیخی نہ کر اور اس کے فضل کا نا شکر گزار نہ ہو اور قارون کی دولت مندی کے لئے