صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 347
حيح البخاري - جلد 1 ۳۷ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء تشريح۔وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ: اللہ تعالیٰ کا سورۃ التحریم میں فرمانا هم وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ * إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي ☆ الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ) (التحريم: ۱۳۱۲) عنوان باب میں ان آیات کی طرف توجہ منعطف کی گئی ہے۔پہلی آیت میں مومنوں کی مثال فرعون کی بیوی آسیہ سے دی گئی ہے جو ایک نیک عورت تھی اور دوسری آیت میں حضرت مریم علیہا الصلوۃ والسلام سے۔اس مثال سے ظاہر ہے کہ مومن دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک طبقہ وہ ہے جو نفس امارہ سوء سے مغلوب نہیں ہوتے۔جیسے آسیہ خاتون اپنے خاوند فرعون کی فرعونیت سے مغلوب نہیں ہوئیں بلکہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں اور مومنوں کا دوسرا طبقہ اپنے روحانی ارتقاء میں بلند درجہ کا ہوتا ہے۔روح القدس ان میں نفخ کیا جاتا ہے اور روح القدس کی برکت سے مریمی صفت سے ترقی کر کے عیسوی صفت کی شان میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔کیا لطیف اور پر حکمت یہ دونوں مثالیں ہیں جن کی تصدیق ہر صدی میں مسجد دین، اولیاء اللہ کے وجود سے ہوتی رہی ہے۔حضرت شیخ معین الدین چشتی اجمیری فرماتے ہیں: د میدم روح القدس اندر معینے می دمد من نه گویم مگر عیسی ثانی شدم باب ہذا میں یہی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے اور روایت زیر باب میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان خواتین میں بھی ایک طبقہ روحانی ارتقاء میں درجہ کمال حاصل کرنے والا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کومثال افضل قرار دیئے جانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان کے سوا دیگر مسلم خواتین بھی فضیلت سے نوازی گئیں کیونکہ ساری غذائیں طیب ہیں۔ایک سے ایک کسی نہ کسی خوبی کی وجہ سے بڑھ کر۔یہاں بعض اخلاق حمیدہ کی وجہ سے ہی حضرت عائشہ کی فضیلت کا ذکر تمثیلاً بیان فرمایا گیا ہے۔ہوس و ہوائے نفس کا بندہ تو اپنے شہوانی جذبات پر ہی قیاس کرے گا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات اور آپ کے فیوض سے تربیت یافتہ پاکیزہ نفوس جو عربی ضرب المثل سے خوب واقف تھے انہوں نے آپ کا مقصد سمجھا اور علماء نے بھی اس کی صحیح شرح بیان کی ہے۔چنانچہ امام ابن حجر نے بھی الفاظ وَلَمْ يَكْمُلُ مِنَ النِّسَاءِ سے نبى حصري مراد لیا ہے نہ کہ مطلق۔گویا اس حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ الَّا يَكُونَ فِي النِّسَاءِ وَلِيَّةٌ وَلَا صِدِّيقَةٌ وَلَا شَهِيدَةٌ عن عورتوں میں درجہ ولایت وصد یقیت و شہیدیت حاصل کرنے والی کوئی خاتون نہ ہوگی جو ان کے نزدیک خلاف واقعہ ہے۔ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: اور اللہ نے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔جب اس نے کہا: اے میرے رب ! میرے لیے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش۔اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال دی ہے ) جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس (بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا اور اس ( کی ماں) نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی اور اس کی کتابوں کی بھی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔}