صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 345 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 345

البخاري - جلد 4 ۳۴۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء الْأَنْهَارُ ۖ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۖ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) (البقرۃ: ۷۵) اور پتھروں میں سے تو یقینا بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں سے دریا بہتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ( بھی ) ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں تو ان میں سے پانی نکنے لگتا ہے اور ان ( یعنی دلوں ) میں سے ( بھی ) بعض ایسے ہیں کہ اللہ کے ڈر سے (معافی مانگتے ہوئے ) گر جاتے ہیں اور جو ( کچھ ) تم کر رہے ہو اللہ اس سے ہرگز بے خبر نہیں ہے۔اس آیت کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ پتھروں سے مراد ظاہری پتھر نہیں بلکہ سنگدل لوگ مراد ہیں۔جو خشیت سے نرم ہو کر سر بسجو د ہوں گے۔عنوانِ باب میں ان آیات کا حوالہ بتاتا ہے کہ در اصل امام بخاری کے مدنظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معجز نماشان کا بیان ہی ہے۔قتل سے بریت کے لئے جس سوختنی قربانی کا ذکر عہد نامہ قدیم کی کتاب استثناء باب ۲۱ آیات اتا ۱۰ میں ہے، اس تعلق میں بعض اجوبہ پسند مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اسرائیلی روایات کا ایک طومار اپنی تفسیروں میں جمع کر دیا ہے جو امام بخاری نے نظر انداز کر دی ہیں۔ایسے مفسرین معذور ہیں کہ وہ بلاغت عربی سے نابلد اور کلام اللہ کے پر معانی سیاق وسباق سے ناواقف تھے اور اس ناواقفیت کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اسلوب ایجاز بلیغ جس سے زبان عربی دوسری زبانوں سے خاص طور پر ممتاز ہے، مفسرین انجام اس مخصوص اسلوب سے مانوس نہیں تھے۔اس لئے قصص بنی اسرائیل سے انہیں مدد حاصل کرنی پڑی۔کاش کہ یہ ارشاد ہی ان کے مد نظر رہتا الْقُرآنُ يُفْسِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔که قرآن خود اپنی تغییر کرتا ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کا شارح ہے۔نہ صرف یہ بلکہ آپ نے اسرائیلی قصوں پر اعتماد کرنے سے بھی ہوشیار فرمایا ہے اور خود قرآن مجید میں بھی اس بارہ میں ہمیں متنبہ کیا گیا۔چنانچہ فرماتا ہے: وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (آل عمران: ۷۰) یعنی اہل کتاب میں سے ایک گروہ آرزو رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر دے اور وہ اپنے آپ کو ہی گمراہی میں ڈال رہے ہیں اور سمجھتے نہیں۔اس آیت سے اہل الکتاب کی خواہش ظاہر ہے کہ وہ صراط مستقیم سے مسلمانوں کو ہٹانا چاہیں گے مگر کامیاب نہ ہوں گے۔اپنے آپ کو ہی گمراہ کریں گے۔یہ ارشاد باری تعالیٰ ملحوظ نہ رکھنے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی سے غفلت برتنے کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ اس خلط ملط سے ظاہر ہے جو بعض تفسیروں میں واقع ہوا ہے۔اللہ بھلا کرے امام موصوف کا جنہوں نے بڑی چھان بین کرنے کے بعد خالص دودھ ہمارے لئے بطور روحانی غذا محفوظ کر دیا ہے اور چھاچھ پھینک دی ہے اور اپنی قابل قدر کتاب میں اعجاز بلیغ کا وہی اسلوب اختیار کیا ہے جس سے عرب عار بہ مانوس تھے۔وَفَاةً مُوسَى وَذِكْرُهُ بَعْدُ : باب اس کی پہلی روایت ( نمبر۳۴۰۷) میں حضرت موسی علیہ السلام کی یہ خواہش کہ مجھے ارض مقدسہ سے ایسی قریب جگہ میں پہنچا دیا جائے جہاں سے میں اسے دیکھ سکوں اگر اس کی فتح میری زندگی میں مقدر نہیں۔اس حصہ روایت کا ذکر خود عہد نامہ قدیم کے صحیفوں میں موجود ہے کہ خداوند نے اس سے کہا: ” یہی وہ ملک ہے جس کی بابت میں نے ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ اسے میں تمہاری نسل کو دوں گا۔سو میں نے ایسا