صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 344
صحيح البخاري - جلد 4 موم هم سم ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ماہیت کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی صورت و شکل تبدیل کرنا اور اضربوہ کی ضمیر مذکر (6) کا قریب ترین مرجع ما موصولہ ہے جو مذکر ہے۔یعنی وہ بیماریاں جو (سینوں میں ) تم چھپائے ہو، ان کی قلب ماہیت کرو۔کس طریق سے؟ بِبَعْضِهَا نفس ہی کی بعض قوتوں کے ذریعہ سے۔اس فقرہ میں ایک مضاف عربی قاعدہ کے تحت مقدر و محذوف ہے اور یہ فقرہ یوں ہے: بِبَعْضٍ قُوَى النَّفْسِ نفس کی بعض قوتوں کے ذریعہ سے نفس کی بیماری کا علاج خود نفس کے اندر ہی ہے۔غضب کا علاج حکم سے، بخل کا علاج سخاوت سے، طمع کا علاج قناعت نفس سے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی میں مثالوں سے اس حقیقت کو واشگاف فرمایا ہے۔جہاں نفس امارہ نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کی شرح بسط کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔(روحانی خزائن جلد، اصفحہ ۳۱۶ تا ۳۶۷) احکام شریعت کی بنیاد ہی اس اصل پر قائم ہے۔پس آیت کا مفہوم یہ ہے : اِضْرِبُوا مَا كُنتُمْ تَكْتُمُون بِبَعْضِهَا۔یعنی بیماریوں کی قلب ماہیت کرو، اپنے نفس کی بعض قوتوں ہی کے ذریعے سے۔پھر فرماتا ہے: كَذلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى (البقرة ۷۴) الله (روحانی) مردے اسی طرح زندہ کیا کرتا ہے۔سیاق کلام میں جسمانی مردوں کے زندہ کرنے کا سوال ہی نہیں۔چنانچہ بعد کی آیات میں یہود کی قساوت قلبی کا ذکر بالفاظ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً معا بعد کرتا اور پیشگوئی فرماتا ہے کہ دل کی سنگلاخ زمین خشیت اللہ سے نرم ہوگی اور اس سے چشمے پھوٹیں گے۔دلوں میں تقوی اللہ پیدا ہوگا اور یہ شہادت ہوگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معجز نما تا ثیر قدسی کے لئے کہ جو کام پہلوں سے نہ ہو سکا وہ آپ کے ذریعہ سے انجام پایا۔یہ مضمون ہے معنو نہ آیات کا۔میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ امام بخاری کے مدنظر مذکورہ بالا مفہوم آیات کا تھا یا نہیں۔مگر یہ امر پورے وثوق اور یقین سے کہتا ہوں کہ ابواب متعلقہ موسیٰ علیہ السلام میں مقابلہ وموازنہ ہے ان کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کا اور اسی غرض سے یہ باب بھی قائم کیا گیا ہے۔چنانچہ اسی باب کے تحت حضرت موسی کی وفات اور ابدی زندگی حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ ہونے سے متعلق روایت بھی درج ہے۔جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کا سلسلہ فیض رسانی اپنے زمانہ میں بھی محدود تھا اور وہ بند ہو چکا ہے۔اگر مقابلہ و موازنہ مقصود نہیں تو عنوانِ باب ایسے دو رکوعوں کی آیات کے حوالہ سے کیا مطلب۔جن میں سے ایک رکوع میں میثاق کا ذکر ہے جو پر ہیبت و جلال طوری تجلی دکھانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے لیا گیا اور ان سے کہا گیا: خُذُوا مَا آتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (البقرة (۶۴) یعنی جو آئین شریعت تم دیئے گئے ہو، اس پر مضبوطی سے کاربند ہو جاؤ اور اس کے ساتھ وہ مقاصد بھی مد نظر رکھو جو احکام شریعت کے اندر ہیں تا کہ تمہیں تقوی و تزکیہ حاصل ہو۔اس میثاق و آئین کے لئے دیکھئے کتاب استثناء باب ۴ ، باب ۵۔میثاق و احکام شریعت دیئے جانے اور پختہ عہد لینے کا ذکر کر کے فرماتا ہے: انہوں نے سبت کی حرمت قائم نہیں رکھی اور مشرک قوموں کی نقالی کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی حالت ذلیل بندروں کی سی ہوگئی۔ایک رکوع میں یہ مضمون ہے اور دوسرے رکوع میں یہ پیشگوئی ہے: وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ