صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 343
۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء صحيح البخاري - جلد 4 زمانے تک بچھڑے کی محبت ان کے دل میں رچی رہی جس پر اس نبی نے بنو اسرائیل کو شدید ملامت کی اور ان سے کہا: ”اے سامرید! تیرا بچھڑا مردود ہے۔میرا قہر اُن پر بھڑ کا ہے۔وہ کب تک گناہ سے پاک نہ ہوں گے۔کیونکہ یہ بھی اسرائیل ہی کی کرتوت ہے۔( ہوسیع باب ۸ آیات ۶،۵) اور ہوسیع باب ۱۰ آیات ۲ تا ۳ میں ہے کہ ان کا دل دغا باز ہے۔اب وہ مجرم ٹھہریں گے۔وہ ان کے مذبحوں کو ڈھائے گا اور ان کے ستونوں کو توڑے گا۔علاوہ ازیں استثناء باب ۲۱ آیات ۱ تا ۱۰ میں قتل سے بریت کے اظہار میں ایسی بچھیا کے ذبیحہ اور ہاتھ دھو کر اس کے اوپر رکھنے اور قسم کھانے کا طریق بھی غمازی کرتا ہے کہ یہ مخصوص طریق بھی ان کی قدیم گوسالہ پرستی سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ اس حکم میں ہدایت ہے کہ وہ بچھیا نہ جوئے میں جوتی گئی ہو اور نہ اس سے کبھی کوئی کام لیا گیا ہو۔سورۃ البقرہ میں جن اوصاف کی گائے کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسے ذبح کرنے کا ارشاد فرمایا اور انہوں نے تعمیل حکم کرنے میں پس و پیش کیا تھا۔ایسی گائے کا ذکر عہد نامہ قدیم کے صحیفوں میں صراحت سے نہیں۔البتہ The Encyclopedia Biblica زیر لفظ Red Heifer ( سرخ رنگ کی بچھیا) میں انہی اوصاف کی گائے کا ذکر ہے۔جس کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آج تک ایسی گائے نہیں ملی۔اس کا ذکر بحوالہ میشنا (Mishna) کیا گیا ہے جو ان کی احادیث کی کتاب ہے۔عنوان باب ہذا میں دو باتوں کا ذکر ہے۔اوّل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حین حیات ان کی قوم کے دلوں سے شرک مٹایا نہ جا سکا اور وہ تو حید کی نعمت سے محروم رہے جو تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہے۔دوم وہ قوم ایسی بیباک تھی کہ قتل جیسے جرم کا ارتکاب کرنے سے نہ چوکتی۔علاوہ ازیں حوالہ آیات میں کسی انفرادی جریمہ قتل کا ذکر نہیں بلکہ ایسے جرم عظیم کا ذکر ہے جس میں ساری قوم یہود شریک ہوئی اور وہ بعض نبیوں کا قتل ہے جو بزعم خویش انہوں نے کیے۔خصوصاً حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام کا۔ایسے معصوم نفوس کے قتل پر ان کی قساوت قلبی کا یہ حال تھا کہ بجائے ندامت و توبہ کے وہ اور زیادہ بیباک ہو گئے اور ایک دوسرے کو اس جرم میں ملزم گرداننے لگے اور ان کے نفوس کا تزکیہ نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہو سکا اور نہ کسی اور نبی سے۔وَاللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرة : (۷۳) اور اب اللہ سینوں کی پوشیدہ بیماریاں نکالنے والا ہے۔یہ کیونکر ہونا تھا؟ اس عہد (شریعت) والے نبی موعود کے ذریعہ سے جس کی بابت لکھا ہے کہ اس کے داہنے ہاتھ آتشی شریعت ہوگی۔(استثناء باب ۳۳ آیت ۲) جو گناہوں کو جلا دے گی اور روحانی مردوں کو زندہ کرے گی۔اسی شریعت کا ذکر فَقُلْنَا میں ہے۔جس کے احکام در اصل فرمودہ الہی ہیں اور ان میں نبی ہی کے ذریعہ سے قوم مخاطب ہوتی ہے۔براہ راست قوم پر احکام وحی نہیں کئے جاتے۔اضْرِبُوہ میں کی ضمیر مذکر نفس کی طرف لوٹائی نہیں جاسکتی۔کیونکہ نفس “ عربی میں مونث ہے۔اس کے لئے ھا کی ضمیر استعمال ہونی چاہیے۔نیز نہ کسی شریعت میں کسی قاتل یا قاتلوں کی سزا ضرب یعنی مارنا ہے۔بلکہ قتل کا بدلہ قتل ہی ہوتا ہے۔اس بات کو حل کرنے کے لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ضرب کے معنی صرف مارنے کے نہیں ہوتے بلکہ قلب