صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 342 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 342

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۴۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ہے۔باب ۴۸ کا موضوع مماثلت ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شدہ انبیاء میں دیکھا اور ان کا حلیہ بیان فرمایا اور اسی میں دجال یک چشم اور اس کے قاتل مسیح کا ذکر ہے اور آپ نے ان کا الگ حلیہ بیان فرمایا ہے۔جس سے دو مختلف شخصیتوں کا تعین ہوتا ہے کہ مسیح ناصری اور ہے، آنے والا مسیح موعود اور ہے۔باب ۴۹ کا عنوان نُزُولُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ نازل ہو کر کیا کام کریں گے۔باب ۵۰ میں بھی روحانی مماثلت و مقارنت کا مضمون ہے جس کی مثالیں بیان ہوئی ہیں۔غرض اگر ان ابواب پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو حضرت امام بخاری کا اصل مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔ان میں در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کی ممتاز خصوصیات اور حیات جاودانی اور ابدی فیوض و برکات اور آپ کی شان فضیلت کا بیان ہے۔اگر یہ موازنہ مقصود نہیں تو باب ۳۱ کی دوسری روایت (نمبر ۳۴۰۸) باب ۳۵ کی پہلی اور دوسری روایت ( نمبر ۳۴۱۲ ۳۴۱۳۰) میں حضرت موسیٰ و یونس علیہما السلام پر عدم ترجیح سے متعلق روایت کی تکرار بے ضرورت ہے۔نیز ایسی روایت کا ذکر جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ثابت ہے کہ آپ نے ایک فرد کو دوسرے فرد پر بلکہ اپنے آپ کو دیگر انبیاء پر اور یہاں تک کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر ترجیح دی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان ابواب کا موضوع ہی موازنہ ومفاضلہ اور مماثلت ہے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً : عَوَانٌ میانہ یعنی نہ بوڑھی نہ بچھیا۔واقع شوخ رنگ۔لَا ذَلُولٌ نہ جوتی گئی تُفِيرُ الْأَرْضَ کہ زمین میں ہل چلاتی ہو۔مُسَلَّمَةٌ بالکل تندرست - لا شية بياض، سفیدی کا نشان بے داغ۔یہ وصف زرد رنگ کے جانور میں پایا جاتا ہے اور سیاہ فام میں بھی۔یہ قول ابو عبیدہ کا ہے اور انہی کا حوالہ ہے کہ جیسے فرمایا: جملت صفر زرد رنگ اونٹ یعنی ایسی زر دی جو سیاہی مائل ہو۔جمال کے معنے بڑے جہازوں کے باندھنے والے رسے کے بھی ہوتے ہیں۔گویا اس تمثیل سے شوخ رنگ کی تشبیہ دی گئی ہے۔پوری آیت یہ ہے: انها تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِه كَأَنَّهُ حِمَلَتْ صُفُرّه (المرسلات : ۳۴٬۳۳) فَادْرَهُ تُم۔تم نے اختلاف کیا۔ابو عبیدہ کے نزدیک یہ لفظ تَدَاری سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تدافع یعنی اپنے سے الزام دور کر کے دوسرے کے ذمہ لگانا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۳۵) 0 اس تعلق میں بحوالہ خروج باب ۳۲ آیات ۲ تا۶ میں بتایا جا چکا ہے کہ بنو اسرائیل نے سونے کے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی تھی۔جس بیان کردہ وصف والی گائے کا پتہ چلتا ہے کہ اس کا رنگ بھی سونے کے مشابہ زرد تھا، ایسے سانڈ اور گائے کی اب تک ہندوستان میں پوجا ہوتی ہے اور گائے کو ما تا دیوی سمجھا جاتا ہے۔مصر میں بھی یہ جانور مقدس سمجھا جاتا تھا۔احبار باب ۲۲ آیات ۱۷ تا ۳۳ میں بے عیب گائے بیل اور برے کی سوختنی قربانی کا حکم ملاحظہ ہو۔مصریوں کے درمیان چار سو سال کی بود و باش کے اثر سے بنو اسرائیل نے بھی مصری پجاریوں کی نقل شروع کر دی تھی۔اس لئے سوختنی قربانی میں گائے بیل کا ذبیہ بھی حکما شامل رکھا گیا۔مگر باوجود اس حکم کے اس شرک کا استیصال ہمشکل ہو سکا۔ہوشیع نبی کے