صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 341 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 341

صحيح البخاري - جلد 4 ۳۴۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء موسیٰ علیہ السلام بحثیت راعی کے اپنی زندگی میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہوئے۔عمالقہ پر جو غلبہ حاصل ہوا، وہ ان کی خلافت کے ایام میں ہوا تھا۔تو رات میں جابجا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو گردن کش قوم سے موسوم کیا ہے۔دیکھئے کتاب خروج باب ۳۳ آیات ۲ تا ۵۔جہاں ان کے بے قابو اور بے لگام ہو جانے کا ذکر ہے اور گفتی باب ۱۹، خروج باب ۲۹ کے مطابق گوسالہ پرستی اور مشرکانہ رجحانات کے استیصال ہی کی وجہ سے انہیں گاؤ ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔جس کا ذکر باب ۳۰ کی معنونہ آیت میں کیا ہے۔نیز بنواسرائیل کے حیلہ و بہانے کا ذکر ہے اور اس کے آخر میں ہے۔فَذَبَحُوْهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ (البقرة : ۷۲) انہوں نے گائے ذبح تو کر دی مگر بادل نخواستہ۔اس بارے میں مزید دیکھئے تفسیر کبیر حضرت مصلح موعود، تفسیر سورة طه، آیات ۸۵ تا ۹۸ جلد پنجم صفحه ۴۵۱ تا ۴۶۳۔غرض حديث هَلْ مِنْ نَّبِي إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا یہ وقفہ مخصوص غرض کے لئے ہے۔بنو اسرائیل کی گردن کشی کے مقابل میں صحابہ کرام کی اطاعت شعاری و سرفروشی عدیم المثال ہے اور تاریخ اسلام کا سنہری ورق جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عدیم النظیر تاثیر قدسی عیاں ہے۔غرض اول تو باب ۲۹ کے عنوان يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَّهُمْ اور حدیث مندرجہ ہی سے امام موصوف کا مقصد واضح ہے۔دوم اگر باب ۳۰ اور مابعد کے ابواب اور مندرجہ احادیث پر ایک مجمل نظر ڈالی جائے تو ان کا یہ مقصد واضح سے واضح تر ہو جاتا ہے۔جس میں قطعاً کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔مثلا باب ۳۱ کے تحت مندرجہ روایت حضرت ابو ہریرہ (نمبر ۳۴۰۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش تھی کہ دنیا میں انہیں مدت مدید تک زندہ رکھا جائے۔لیکن انہیں بتایا گیا کہ آخر انہیں مرنا ہے۔ان کی یہ خواہش حیات جاودانی پوری نہیں ہوگی۔باب اس کی دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ امام بخاریؒ ان ابواب میں موازنہ اور امر واقعہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فیضان محمد ود الزمن تھا، بحالیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ابدی ہے اور یہ موازنہ ارشادِ نبوی لَا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوسَى کے خلاف نہیں کہ اس سے ان کی غرض کسی فرد کے احساسات مجروح کرنا نہیں۔جبکہ ایک صحابی نے ایک یہودی کے احساسات زخمی کئے اور چیرہ دستی سے کام لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔باب ۳۲ میں آیت کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ایک مومن اپنے روحانی معراج میں مریم کی شان رکھتا ہے۔باب ۳۳ میں قوم موسیٰ علیہ السلام کی مال و دولت سے غایت درجہ محبت اور اس کی بے پناہ ثروت کا ذکر ہے۔باب ۳۵ میں پھر اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ موازنہ اس قسم سے نہیں جس کی ممانعت ہے بلکہ امر واقعہ کا اظہار ہے۔باب ۳۶ میں یہود کا احکام سبت کو پس پشت ڈالنے کا ذکر ہے۔باب ۳۷، ۳۸، ۳۹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک تابع نبی بھی بعض امور میں ممتاز ہو سکتا ہے۔باب ۳۹ کا موضوع ہے کہ ایک نبی کی تائید تابع نبی سے بھی کی جاتی ہے۔باب ۴۴، ۴۸ میں سورۃ مریم کی ان آیات کا اعادہ ہے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر شروع ہوتا ہے۔باب ۴۴ ، ۴۵ میں اصطفاء یعنی انتخاب اصلح سے متعلق سنت اللہ کا ذکر آیات کے حوالہ سے کیا گیا ہے اور جائز موازنہ و مفاضلہ کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔باب ۴۷ کا موضوع یہ ہے کہ عقائد دینیہ میں غلوممنوع