صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 26 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 26

صحيح البخاری جلد ۲۶ ۵۹ - كتاب بدء الخلق وَاهِيَةٌ سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے : وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَّاهِيَةٌ ، وَالْمَلَكُ عَلَى اَرْجَائِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَنِيَّةٌ ) :(الحاقة : ۱۷ ، ۱۸) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بالکل بود نظر آئے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اُٹھا رہے ہوں گے۔الْمَلَک اسم جمع ہے یعنی اَلْمَلَائِكَة - وَهُي سے مراد پھٹنا ہے اور اِرجاء سے آسمان کا وہ حصہ مراد ہے جو نہیں پھٹے گا۔یعنی اس کے کنارے۔جیسے تم کہتے ہو کہ وہ کنوئیں کے کنارے پر ہے۔أغْطَشَ سے سورۃ النازعات کی آیت رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوْهَاه وَاغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَهَا کی طرف اشارہ ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ آسمان کی بلندی کو اونچا کیا ہے۔پھر اسے بے عیب بنایا ہے اور اس کی رات کو (تو) تاریک بنایا ہے لیکن اس کی دو پہر کو روشن بنا کر ظاہر کیا ہے۔آسمان کی بلندی اونچی کی اور تناسب قائم کر کے اسے ہموار اور بے عیب بنایا ہے۔اور اس کی رات کو تاریک کیا اور دن کی روشنی ظاہر کی۔جن سے سورہ انعام کی آیت ۷۷ کی طرف اشارہ ہے۔فرماتا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا۔یعنی جب رات ابراہیم پر چھائی تواس نے سارہ دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے اور جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا: زوال پذیر اشیاء سے مجھے محبت نہیں ہو سکتی۔حسن بصری نے کہا: محورٹ کے معنی ہیں کہ لپیٹا جائے گا یہاں تک کہ اس کی روشنی باقی نہ رہے گی۔اس سے آیت إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ (التكوير (۲) کی شرح کی گئی ہے۔ان کی یہ شرح ابن ابی حاتم سے مروی ہے۔آیت کا یہ مفہوم حضرت ابو ہریرہ کی روایت ۳۲۰۰ سننے سے پہلے بیان کیا کرتے تھے۔حضرت ابن عباس سے کورٹ کے معنی اَظْلَمَتُ مروی ہیں یعنی تاریک ہو گیا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۹) آیت وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ میں لفظ وسق کے لغوی معنی ہیں جانوروں کو ادھر ادھر سے ایک جگہ اکٹھا کر دیا اور انسق کے معنی ہیں استولی یعنی ایک سا اور برابر ہو گیا یعنی چاند پورا ہو گیا۔اس سے آیت وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (الإنشقاق :19) کی طرف اشارہ ہے۔بُرُوجا سے مراد سورج اور چاند کی منزلیں ہیں۔اس لفظ سے آیت وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ (البروج:۲) کی طرف اشارہ ہے۔فَالْحَرُورُ بِالنَّهَارِ مَعَ الشَّمْسِ سے سورہ فاطر کی آیت ۲۲ ۲۳ کی تفسیر کی گئی ہے۔لفظ الحدود سے وہ گرمی مراد ہے جو طلوع آفتاب کے ساتھ دن کو ہوتی ہے۔مکمل آیت یہ ہے: وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُه وَلَا الظُّلُمَتُ وَلَا التَّورُه وَلَا الظَّلُ وَلَا الْحَرُورُه وَمَا يَسْتَوِي الاحْيَاء وَلَا الْاَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاءُ وَمَا ط أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُورِه (فاطر : ۲۰ تا ۲۳) آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ بینا اور نا بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ تاریکیاں اور روشنی اور نہ سایہ اور دھوپ اور نہ زندے اور مردے برابر ہو سکتے ہیں۔یقینا اللہ جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور جو قبروں میں ہوں تو انہیں ہرگز نہیں سنا سکتا۔حضرت ابن عباس اور روبہ کے نزدیک الْحَرُور سے مراد رات کی گرمی ہے اور سموم دن کی لو۔امام ابن حجر نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور رویہ کا حوالہ ابو عبیدہ سے مروی