صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 340
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ تمہیں تمہاری غلطی نے جنت سے نکال دیا تھا۔آدم آدَمُ أَنْتَ مُوْسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ الله نے ان سے کہا: تم وہی مولی" ہو کہ اللہ نے تمہیں بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے منتخب کیا تھا۔أَمْرٍ قُدِرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أَخْلَقَ فَقَالَ پھر تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جو میرے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ لئے پیشتر اس کے کہ میں پیدا کیا جاتا، مقدر تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار یوں فرمایا : آدم آدم موسى مرتين۔اطرافه: ٤٧٣٦ ، ٤٧٣٨، ٠٧٥١٥،٦٦١٤ موسی" پر دلائل سے غالب آئے۔٣٤١٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۴۱۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حصین بن نمیر حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شحصین بن عبدالرحمن سے، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ باہر آئے۔فرمایا: میرے سامنے اُمتیں پیش کی گئیں وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيْرًا سَدَّ الْأُفْقَ فَقِيْلَ اور میں نے بہت بڑا انبوہ دیکھا جس نے آسمان کے افق کو ڈھانپ دیا تھا۔مجھ سے کہا گیا: یہ موسیٰ هَذَا مُوْسَى فِي قَوْمِهِ۔ہیں اپنی قوم سمیت۔اطرافه ۵۷۰۵، ٥٧٥۲ ٦٤٧٢، ٦٥٤١۔وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عل الله عَلَى الْعَالَمِيْنَ : امام بخاری کا ان ابواب کے قائم کرنے شریح : سے کیا مقصد ہے؟ دو باتوں سے واضح ہو جاتا ہے۔اول باب ۲۹ کے عنوان اور اس کی روایت سے۔عنوانِ باب سورۃ الاعراف کی اس آیت کا ٹکڑا ہے جس میں بنو اسرائیل کی صنم پرستی سے متعلق رجحانات کے اُبھرنے کا ذکر ہے۔يَعْكُفُونَ مضارع کا صیغہ ہے اور اس آیت میں میلان بت پرستی کے دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔آیت کے صرف مذکورہ بالا حصہ سے عنوان قائم کرنا بلا وجہ نہیں اور اس میلان شرک کے بالمقابل حدیث کے ان الفاظ پر ختم کر دیتا جس کا تعلق نگرانی و تربیت سے ہے، یہ ایسا تصرف ہے جس سے ہماری توجہ باسلوب تقابل اس امر پر مرکوز کی گئی ہے کہ حضرت