صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 337 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 337

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۷ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء باب ۳۰ : وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِةٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً (البقرة: ٦٨) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ الْعَوَانُ النَّصَفُ بَيْنَ ابو العالیہ نے کہا: الْعَوَان کے معنی ہیں بچھیا اور بوڑھی الْبِكْرِ وَالْهَرِمَةِ۔ فَاقِعٌ (البقرة: ۷۰) صَاف کے درمیان ۔ فاقع کے معنی ہیں صاف۔ اور لا لا ذَلُول (البقرة : ٧٢) لَمْ يُذِلُّهَا الْعَمَلُ۔ ذَلُولٌ کے معنی ہیں کام کاج نے اسے ذلیل نہیں کیا۔ تُثِيرُ الْأَرْضَ (البقرة: (۷۲) لَيْسَتْ تُثِيرُ الْأَرْضَ یعنی وہ کام میں نہیں لگائی گئی کہ زمین کو بِذَلُوْلٍ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَعْمَلُ فِي پھاڑتی اور کھیتی میں محنت کرتی ہو۔ مُسَلَّمَةٌ کے معنی الْحَرْثِ مُسَلَّمَةٌ مِنَ الْعُيُوبِ ، لَا شِيَةَ ہیں تمام عیبوں سے صحیح سلامت ہے۔ لَا شِيَةَ کے (البقرة: ٧٢) بَيَاضُ صَفْرَاءُ (البقرۃ: ۷۰) معنی ہیں کوئی سفید داغ اس میں نہیں ( زرد ہے۔) إِنْ شِئْتَ سَوْدَاءُ وَيُقَالُ صَفْرَاءُ صَفْرَاء کے معنی سیاہ بھی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہو كَقَوْلِهِ جِمَلَت صفر (المرسلات: ٣٤) (یہ منی کرو۔ ) جیسا کہ کہتے ہیں: جمَلَتْ صُفْرٌ فَادْرَعْتُمُ (البقرة: ۷۳) اخْتَلَفْتُمْ۔ یعنی کالے اونٹ ۔ اور فَادَّرَاتُم کے معنی ہیں تم نے اختلاف کیا۔ باب ۳۱: وَفَاةٌ مُوسَى وَذِكْرُهُ بَعْدُ حضرت موسی کی وفات اور اس کے بعد ان کا حال ٣٤٠٧: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ۳۴۰۷ : يحي بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرزاق حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے ( عبداللہ ) بن طاؤس سے، انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: