صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 336
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ہی میں ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہجرت کے دوران جب ایک جگہ ٹھہرے تو ان کی قوم بت پرستی کی طرف مائل ہوئی۔تب حضرت موسی نے اپنی قوم کو کہا کہ جس کام میں وہ بت پرست لگے ہوئے ہیں وہ تو یقیناً تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب بے کا رجائے گا۔ان آیات میں جس بت پرست قوم کا ذکر ہے وہ قوم عاد کی نسل سے تھی۔فلسطین ، موآب ( وادی اردن ) اور شام میں آباد تھی۔عمالقہ کی قوم انہی کی ایک شاخ تھی جنہیں مصر میں بھی غلبہ حاصل ہوا۔یہ سب بتوں کے پجاری تھے اور بت پرستی ملک کا رائج الوقت مذہب تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم، بنو اسرائیل چونکہ ایک لمبا عرصہ مصر میں بحالت غلامی فراعنہ کے زیر اثر رہے ان کی ذہنیت مسخ ہو چکی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے اپنی نجات کا خوارق عادت نشان دیکھنے کے باوجود جونہی انہوں نے آزادی کا سانس لیا اور ان کے سروں سے دباؤ دور ہوا ان کے مشرکانہ رجحانات ظاہر ہونے لگے اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مذکورہ بالا مطالبہ کیا۔اسی واقعہ کا ذکر ایک ناگوار تصرف کے ساتھ خروج باب ۳۲ کے شروع میں ہے۔یعنی یہ کہ سونے کا گوسالہ ہارون علیہ السلام کے ذریعے سے بنوایا گیا۔اس کی تفصیل کا یہ عمل نہیں اور بت پرست قوم کی تباہی کا جو ذکر مشار الیہ آیت میں ہے یہ تباہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یشوع کے عہد خلافت میں توحید پرست صلحائے بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انجام پائی۔اس کا ذکر بھی کتاب خروج باب ۱۷ آیات ۱۳ تا ۱۵ میں بایں الفاظ ہے : ” اور یشوع نے عمالیق اور اس کے لوگوں کو تلوار کی دھار سے شکست دی۔تب خداوند نے موسیٰ سے کہا: اس بات کی یادگاری کے لئے کتاب میں لکھ دے اور یشوع کو سنا دے کہ میں عمالیق کا نام و نشان دنیا سے بالکل مٹا دوں گا۔آیت إِنَّ هَؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ میں اسی واقعہ تباہی کا ذکر ہے۔باب کے تحت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں مذکورہ بالا واقعات کا کوئی ذکر نہیں۔اس لئے شارحین کے نزدیک منقولہ حدیث کی عنوانِ باب کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں۔یہاں تک کہ امام ابن حجر کو بھی شارحین کی رائے سے ان الفاظ میں اتفاق کرنا پڑا: وَأَمَّا مُنَاسَبَةُ التَّرْجُمَةِ لِلْحَدِيثِ فَلَا۔اور انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ عنوان کے تحت بعض احادیث نقل کی جانی تھیں جو امام بخاری سے رہ گئی ہیں اور جو سہو کتابت ہے۔(فتح الباری جزء۶ صفحه ۵۳۳) لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ امام موصوف کے پیش نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام یا ان کی قوم کے واقعات کا ذکر مقصود بالذات نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی شان کا ذکر مد نظر ہے جیسا کہ ابھی چندا جواب کی شرح سے اس حقیقت کی نقاب کشائی ہو جائے گی کہ ان میں در اصل خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کا بیان ہے جو آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ انبیاء سے ممتاز کرتی ہے۔حدیث نبوی زیر باب کے آخری الفاظ وَهَلْ مِنْ نَّبِيِّ إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا الطور تمہید ہیں ، اس مضمون کے لئے جس کا تعلق امت کی نگرانی اور تربیت سے ہے خواہ یہ نگرانی اور تربیت کا فرض کسی نبی کی زندگی میں انجام پایا یا اس کا سلسلہ اس کی وفات کے بعد ممتد ہوا۔باب ۲۹ کے بعد ابواب کا موضوع یہی ہے۔ان میں انبیاء گزشتہ خصوصاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ رسالت سے متعلق مقارنہ وموازنہ ہے۔جس سے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ نبوت ورسالت نمایاں و ممتاز ہوتی ہے۔