صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 334
صحيح البخاری جلد 4 بوم سمسم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء تشریح: کتاب العلم تشریح باب ۴۴۱۹،۱۶۔قرآن مجید میں خضر نام وارد نہیں ہوا اور یہ نام اسم وصفی ہے اور اس کا تلفظ خضر بھی ہے یعنی شاداب۔تفاسیر میں اس کے متعلق کئی حکایات اسرائیلی روایات کی بناء پر نقل کی گئی ہیں کہ موت وفتا ان پر وارد نہیں ہوتی اور وہ تا ابد زندہ ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر میں بھونی ہوئی مچھلی بطور زاد راہ لے گئے جو باذن اللہ زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی۔یہ انجو بہ پسند لوگوں کے قصہ کہانیاں ہیں جن سے کتاب اللہ العزیز العلیم خالی ہے۔سورۃ الکہف میں جس عبد صاحب موسیٰ کا ذکر ہے اس کی نسبت کتاب التفسیر سورۃ الکہف میں بھی ذکر ہے۔باب نمبر ۲۷ میں جو واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بیان ہوا ہے وہ واقعہ از قبیل مکاشفہ ومعراج ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام چار باتوں سے متعلق مطلع کئے گئے ہیں: شريح : حَدِيثُ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ: باب ۲۷ کی روایات کے لئے دیکھئے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل نجات پائیں گے۔لیکن ظاہر بین لوگوں کو یہی نظر آئے گا جیسے کشتی میں سوراخ کر دیا جائے اور کشتی کی سواریاں غرق کر دی جائیں۔مچھلی بھول جانے سے یہ مراد ہے کہ بنی اسرائیل ہدایت پانے کے بعد منزلِ مقصود کھو دیں گے۔- بعض وقت قتل جو جرم ہے نیک نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔گردن کش قوم بنی اسرائیل کی ہلاکت اور حضرت یوشع بن نون کے ذریعہ سے ظالم عمالقہ کی سرکوبی نے آخر ایک بہتر قوم پیدا کر دی۔یہی سنت اللہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے جاری وساری ہے۔یہ وہ پر حکمت تاویل ہے معراج موسوی کی ، جو میں نے بار ہا استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے درساً و سبقاً سنی۔مجمع البحرین تک شریعت موسوی کا زمانہ ممتد رہنا مقدر ہے۔اس کے بعد خاتم النبین ﷺ کی شریعت کا زمانہ شروع ہونے والا ہے اور وہ حقائق دین و دنیا پر مشتمل ہوگی اور بنی نوع بشر کے لئے ابدی شریعت ہوگی۔یہ سوال کہ آیا عہد نامہ قدیم کے صحیفوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کسی سفر کا ذکر پایا جاتا ہے یا نہیں جو تحصیل علم و عرفان کے لئے اختیار کیا گیا ہو؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔البتہ خرطوم کی طرف انہوں نے نبوت سے پہلے سفر کیا ہے۔جس کا ذکر احبار بنی اسرائیل کی روایتوں میں آتا ہے۔مگر ہمیں ان روایتوں کی صحت و سقم و اعادہ سے کچھ واسطہ نہیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ باب مذکورہ ضمنی ہے جس کا اصل موضوع معراج موسوی ہے۔باب ۲۸ بغیر عنوان ہے اور اس کے تحت تین روایتیں ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۳ ۳۴۰) کتاب تفسیر القرآن، سورة البقرة، روایت نمبر ۴۴۷۹ ، سورۃ الاعراف روایت نمبر ۴۶۴۱ میں بھی آئے گی۔دوسری روایت (نمبر ۳۴۰۴) کی تشریح تفصیل سے کتاب الغسل باب ۲۰ روایت نمبر ۲۷۸ میں گذر چکی ہے۔تیسری روایت (نمبر ۳۴۰۵) کی وضاحت کے لیے دیکھئے کتاب فرض الخمس تشریح باب ۱۹۔