صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 333 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 333

صحيح البخاری جلد ؟ سمسمسم ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِّنْ أَثَرِ تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی باتوں سے ان کو بری ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِكَ ثابت کیا اور وہ حجر ٹھہر گیا۔انہوں نے اپنے کپڑے قَوْلُهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا لئے اور انہیں پہن لیا اور اس حجر کو لاٹھی سے مارنے كَالَّذِيْنَ أَذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا گئے۔بخدا اس حجر پر اب بھی ان کی مار کے زخم کے نشان ہیں تین، چار یا پانچ۔اور یہی ہے جو اللہ تعالیٰ قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيْهَا هُ اطرافه: ۲۷۸، ٤۷۹۹ رَضِيَ فرماتا ہے: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں (الأحزاب: ٧٠) کی طرح نہ ہو جنہوں نے موسیٰ کو دکھ دیا تھا اور پھر انہوں نے جو افتراء کیا تھا اس سے اللہ نے ان کو بری کیا اور موسیٰ اللہ کے نزدیک بہت ہی معزز تھے۔٣٤٠٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۳۴۰۵ ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَن الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے روایت کی، کہا: أَبَا وَائِل قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ میں نے ابو وائل سے سنا کہ انہوں نے کہا: میں نے اللهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيْدَ ایک شخص نے کہا: یہ تو یقینا ایسی تقسیم ہے کہ اس سے بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله الله کی رضامندی ہرگز مقصود نہیں۔میں نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا: آپ یہ سن کر رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ رنجیدہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کی ناراضگی میں نے يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أَوْذِيَ بِأَكْثَرَ آپ کے چہرہ میں دیکھی۔پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔ان کو تو اس سے بھی زیادہ دیکھ دیا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔مِنْ هَذَا فَصَبَرَ۔اطرافه ۳۱۵۰، ۱۳۳۵، ۱۳۳۶، ۶۰۵۹، ٦۱۰۰، ٦٢٩١، ٦٣٣٦۔