صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 25 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 25

صحيح البخاری جلد ۶ ۲۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق مطابق یہ شرح ہوگی کہ سورج اور چاند مقررہ حساب سے منزل بہ منزل حرکت کر رہے ہیں، جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ان کی یہ تفسیر حربی اور طبری نے نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۸) حُسْبَان جمع ہے حِسَابٍ کی جیسے شُهَبَانِ شهاب کی۔جس کے معنے ہیں چمکتا ہوا ستارہ۔ضُخها سے آیت وَالشَّمْسِ وَضُحَها کی طرف اشارہ ہے۔یعنی سورج اور اس کی پوری روشنی کی قسم ہے۔یعنی اسے بطور شہادت پیش کیا جاتا ہے اور ان تُدْرِكَ الْقَمَرَ سے سورہ یسین کی ان آیات کی طرف اشارہ ہے : وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍ لَهَا * ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرُنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرُجُونِ الْقَدِيمِ۔لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (يس:۴۱۳۳۹) اور سورج ایک مقررہ مقام کی طرف چلا جا رہا ہے۔یہ انتظام عزیز علیم ذات کے ایک مقررہ قانون سے ہے اور ہم نے چاند کے لئے بھی منزلیں مقرر کی ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنی منزلیں طے کرتا ہوا ایک پرانی شاخ کی مانند ہو کر پھر لوتا ہے۔نہ سورج کو سکت ہے کہ چاند تک پہنچے اور نہ رات کو کہ وہ دن سے آگے بڑھے اور یہ سب ایک مقررہ دائرہ میں سہولت سے چلے جارہے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ لَا يَسْتُرُ ضَوْءُ أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ یعنی سورج اور چاند دونوں میں سے ایک کی روشنی دوسرے کی روشنی کے لئے روک نہیں بنتی اور آیت وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ کا مطلب یہ ہے : يَتَطَالَبَانِ ایک دوسرے کے پیچھے تگ و دو کر رہے ہیں۔حَثِيْتَيْنِ سے اشارہ آیت يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا (الأعراف: ۵۵) کی طرف ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تمہارا رب یقینا اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے۔پھر (اس کے بعد ) وہ (حکومت کے ) تخت پر مضبوطی سے قائم ہو گیا۔وہ رات کو دن پر ڈھانکتا ہے جو ا سے جلدی سے پکڑنا چاہتی ہے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو اس نے اس طرح پیدا کیا کہ وہ سب اس کے حکم کے تحت ( بغیر کسی تھکان کے ) کام کر رہے ہیں۔سنو! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور قانون بنانا بھی اسی کا کام ہے ) اللہ بہت برکت والا ہے۔وہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔نہ تو سورج کو طاقت ہے کہ وہ اپنے سال کے دورہ میں کسی وقت چاند کے قریب جا پہنچے کیونکہ اگر ایسا ہو تو سارا نظام شمسی تباہ ہو جائے ) اور نہ رات کو طاقت ہے ( یعنی چاند کو) کہ وہ مسابقت کرتے ہوئے دن کو (یعنی سورج کو ) پکڑ لے۔بلکہ یہ سب کے سب ایک مقررہ راستہ پر نہایت سہولت سے چلتے چلے جاتے ہیں۔مذکورہ بالا آیت کے آخر میں صراحت ہے کہ یہ کائنات سب اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہے۔فرماتا ہے : وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِاَمْرِهِ آلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْآمُرُ تَبَارَكَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ 0 محولہ بالا آیات کی مذکورہ شرح مجاہد نے کی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۸) نَسْلَخُ کے لفظ کے ذکر سے آیت وَايَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ : نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُّظْلِمُونَ (يس: ۳۸) کی طرف اشارہ ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے اور ان کے لئے رات بھی ایک بڑا نشان ہے جس میں سے کھینچ کر ہم دن نکال لیتے ہیں۔جس کے بعد اچانک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔مجاہد نے اس کی تفسیر یہ کی ہے: يَجْرِي كُلِّ مِنْهُمَا فِي فلک۔سورج وچاند میں سے ہر ایک اپنے دائرہ میں چل رہا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۸)