صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 328 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 328

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۸ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِّنْ عِلْمِ اللهِ مجھے سکھلایا ہے تو اسے نہیں جانتا اور تجھے بھی علم الہی عَلَّمَنِيْهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَی میں سے ایک علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے تجھے سکھلایا عِلْمٍ مِّنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ ہے۔ میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ نے پوچھا: پوچھا: کیا میں قَالَ هَلْ أَتَّبِعُكَ۔ قَالَ إِنَّكَ لَنْ آپ کی پیروی کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ تو صبر نہیں کر سکے گا اور کیونکر تو صبر کرے تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ گا، ایسی باتوں پر جن کی حقیقت سے تو پورے طور پر تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ آگاہ نہیں ہے۔ خیر وہ دونوں سمندر کے کنارے چل خُبْرًا إِلَى قَوْلِهِ أَمْرًا فَانْطَلَقَا پڑے ۔ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ انہیں سوار کر لیں۔ بِهِمَا سَفِينَةٌ كَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ انہوں نے خضر کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ ان کو سوار فَعَرَفُوْا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ کر لیا۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے سمندر فَلَمَّا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ جَاءَ عُصْفُورٌ میں ایک یا دو چونچیں ماریں۔ خضر نے موسیٰ سے کہا: فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَتَقَرَ فِي اے موسیٰ! میرے اور تیرے علم نے علم الہی سے اتنا الْبَحْرِ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ بھی کم نہیں کیا جتنا کہ اس چڑیا نے اپنی چونچ سے اس يَا مُوسَى مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ سمندر میں سے کم کیا ہے۔ یہ کہ کر خضر نے کلہاڑی لی مِنْ عِلْمِ اللهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا اور کشتی کا ) ایک تختہ نکال ڈالا ۔ حضرت ابن عباس الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ إِذْ أَخَذَ نے کہا: موسی کو اچانک اُسی وقت معلوم ہوا کہ خضر نے الْفَأْسَ فَنَزَعَ لَوْحًا قَالَ فَلَمْ يَفْجَأْ ایک تختہ تیشہ سے تیشہ سے اکھیڑ لیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا: مُوسَى إِلَّا وَقَدْ قَلَعَ لَوْحًا بِالْقَدُّوْمِ فَقَالَ آپ نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرایہ سوار کیا تھا۔ آپ ان کی کشتی پر ہی لیکے اور اسے پھاڑ ڈالا لَهُ مُوسَى مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُوْنَا بِغَيْرِ ہے کہ کشتی میں جو لوگ سوار ہیں انہیں غرق کریں۔ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا آپ نے تو ایک بالکل انوکھی بات کی ہے۔ انہوں لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا اِمْرًا نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر