صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 326 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 326

صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء قُلْتُ لِابْن عَبَّاسِ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِر موسیٰ خضر والے بنی اسرائیل کے موسی انہیں ہیں۔بلکہ لَيْسَ هُوَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ کوئی اور موسیٰ ہیں۔حضرت ابن عباس نے یہ سن کر کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔حضرت ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں إِنَّمَا هُوَ مُوسَىٰ آخَرُ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوٌّ اللهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ بتایا کہ موسیٰ بنی اسرائیل میں خطبہ کی غرض سے کھڑے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ہوئے۔ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ زیادہ عالم ہے؟ انہوں نے کہا: میں۔تو اللہ نے ان فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ انہوں نے یہ نہیں کہا: فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ اللہ بہتر جانتا ہے۔اس لئے اللہ نے ان سے کہا: إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ بَلَى لِي عَبْدٌ بِمَجْمَعِ ) تم سب سے بڑھ کر عالم نہیں) بلکہ مجمع البحرین میں الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ أَي میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔حضرت موسیٰ نے کہا : اے میرے رب! مجھے اس کے پاس کون رَبِّ وَمَنْ لِي بِهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ پہنچائے ؟ اور سفیان بن عیینہ ) نے یوں کہا: اے أَيْ رَبِّ وَكَيْفَ لِي بِهِ قَالَ تَأْخُذُ میرے ربّ! اور میں اس کے پاس کیونکر پہنچوں؟ اللہ حُوْنًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ حَيْثُمَا نے کہا: تم ایک مچھلی لو اور اسے ٹوکری میں رکھ لو۔جہاں فَقَدْتَ الْحُوْتَ فَهُوَ ثَمَّ وَرُبَّمَا یہ مچھلی کھو بیٹھو وہ وہیں ہوگا۔اور سفیان نے فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَهُوَ ثَمَّهُ وَأَخَذَ حُوْتًا فَجَعَلَهُ کی جگہ فَهُوَ ثَمَّهُ کے الفاظ کہے۔موسیٰ نے ایک مچھلی فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يُوْشَعُ لی اور نوکری میں وہ رکھ لی۔پھر وہ اور ان کے نوجوان یوشع بن نون چل پڑے۔یہاں تک کہ جب دونوں بْنُ نُوْنٍ حَتَّى إِذَا أَتَيَا الصَّحْرَةَ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا فَرَقَدَ مُوسَى وَاضْطَرَبَ اور مچھلی تڑپ کر باہر کی اور سمندر میں گرگئی اور پھر اس الْحُوْتُ فَخَرَجَ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ نے سمندر میں اپنی راہ لی اور چلتی بنی اور اللہ نے اس فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا مچھلی سے پانی کی روانی روک دی۔چنانچہ پانی ڈاٹ چٹان کے پاس پہنچے اور اپنے سر ٹیکے تو موسیٰ سو گئے