صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 324
صحيح البخاری جلد 4 ۳۲۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء بَاب ٢٦ : طُوفَانٌ مِنَ السَّيْلِ وَيُقَالُ لِلْمَوْتِ الْكَثِيرِ طُوفَانٌ طوفان سے مراد ( یہاں ) سیلاب ہے وَالْقُمَّلَ (الأعراف: ١٣٤) الْحُمْنَانُ يُشْبِهُ اسی طرح کثرتِ موت کو بھی طوفان کہتے ہیں۔اور صِغَارَ الْحَلَمِ۔حَقِيقُ (الأعراف: ١٠٦) قُمَّل کے معنی چچڑیاں جو چھوٹی جوؤں کے مشابہ حَقٌّ۔سُقِط (الأعراف: ١٥٠) كُلُّ مَنْ ہوتی ہیں۔حقیق کے معنی ہیں حق ، ضروری، لازم۔اور یہ جو فرمایا: وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ اور جب وہ پشیمان ہوئے۔ہر وہ شخص جو پشیمان ہو اس کی نسبت نَّدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ۔کہتے ہیں: سُقِطَ فِي يَدِهِ۔بَاب ۲۷ : حَدِيثُ الْخَضِرِ مَعَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ موسیٰ کے ساتھ خضر کا واقعہ ان دونوں پر سلامتی ہو ٣٤٠٠: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۴۰۰ عمرو بن محمد نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مُجھے بتایا۔انہوں نے صالح ( بن کیسان ) سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید اللہ بن عبد اللہ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنِ نے ان کو بتایا۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ انہوں نے (یعنی حضرت ابن عباس) اور حر بن قیس قَيْسِ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى قَالَ نے موسیٰ کے ساتھی کی نسبت اختلاف کیا۔حضرت ابْنُ عَبَّاسِ هُوَ خَضِرٌ فَمَرَّ بِهِمَا أُبَى ابن عباس کہتے تھے: وہ خضر ہیں۔اتنے میں حضرت بْنُ كَعْبٍ فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسِ فَقَالَ إِنِّي ابی بن کعب ان دونوں کے پاس سے گزرے حضرت ابن عباس نے انہیں بلایا اور کہا: میں اور یہ میرا رفیق تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ موسیٰ کے اس ساتھی کے متعلق اختلاف رکھتے ہیں الَّذِي سَأَلَ السَّبِيْلَ إِلَى لُقِيهِ جس کی ملاقات کے لئے موسیٰ نے راستہ دریافت کیا هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ لا يَذْكُرُ تھا۔کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا مُوسَى کو