صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 323
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء كَانَتَا رَتْقًا وَّلَمْ يَقُلُ كُنَّ رَتْقًا: اس شرح سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ السموات با وجود جمع ہونے کے ایک جنس قرار دی گئی ہے اور آسمان وزمین کے لئے جوڑا ہونے کی وجہ سے گانَتَا رَتْقًا صیغہ تشنہ استعمال کیا گیا ہے۔رَتْقًا کے معنی ہیں مُلْتَصِقَتَيْنِ باہم ملے ہوئے۔یہ بھی تشنہ ہے۔عربی میں رنق کے معنی ہیں ضِدُّ الْفَتْقِ پھٹے کپڑے کو پیوند لگانا۔مقصودہ معانی کو مدنظر رکھتے ہوئے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور یہ عربی میں جائز ہے کہ الفاظ کا تقبع نہ کیا جائے بلکہ معنی مقصود کے اعتبار سے صیغہ استعمال ہو اور اس کی مثال قرآنِ مجید ہی سے دی گئی ہے۔فرماتا ہے: اشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (البقرة: ۲۲) العجل یعنی بچھڑا مفرد ہے۔اس کے لئے صیغہ مفرد اشرِبَ آنا چاہیے تھا۔مگر مفہوم کے اعتبار سے صیغہ جمع وارد ہوا ہے اور مراد پینا پلانا نہیں بلکہ پچھڑے کی محبت دلوں میں رچنا مراد ہے اور گوسالہ پرستوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے صیغہ جمع اُشْرِبُوا استعمال ہوا ہے۔ط ط قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْبَجَسَتْ اِنْفَجَرَتْ : پھوٹ پڑے۔سورۃ الاعراف کی آیت ۱۶۱ کا حوالہ دیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَقَطَّعْنَهُمُ اثْنَتَى عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أَمَمًا ، وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى إِذِ اسْتَسْقَهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِبُ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَالْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ، قَدْ عَلِمَ كُلُّ أَنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ * وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنكُمْ * وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلَكِنْ كَانُوا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ) (الأعراف :(١٦) اور ہم نے ان کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا (جو اب ترقی کر کے قومیں بن گئے ہیں) اور ہم نے موسیٰ کی طرف جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا وحی کی کہ جا اور اپنا سونٹا ( فلاں) پتھر پر مار۔( جب اس نے ایسا کیا ) تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ہر قوم نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے ان کے لئے ترنجبین اور بٹیر پیدا کئے (اور کہا) کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے (اس میں سے ) طیب چیزیں کھاؤ اور انہوں نے ہم پر تو ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔علاوہ ازیں آیت وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ (الأعراف :۱۷۲) کی تفسیر کے لئے بھی حضرت ابن عباس کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے لئے دیکھئے کتاب التفسیر ، سورۃ الاعراف۔یہ دونوں حوالے بلاوجہ نہیں ، مذکورہ بالا مماثلت کے تعلق ہی میں ہیں۔نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعثت بمقابلہ سابقہ نبوتوں کے (كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ) آب حیات را بر کثیر قرار دی ہے۔( دیکھئے کتاب العلم باب ۲۰ روایت نمبر ۷۹ ) اور بتایا ہے کہ اس سے چشمے پھوٹ رہے ہیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے فیوض سے پھوٹے تھے اور جس طرح بنی اسرائیل نے جب موسوی شریعت کو پس پشت ڈالا ، وہ ٹکرے ٹکڑے ہو گئے اور کئی فرقوں میں بٹ گئے۔یہی حال امت محمدیہ کا ہوگا اور اصل حصہ مماثلت سے متعلق خود آنحضرت ﷺ نے کھلے الفاظ میں انذار فرمایا ہے۔لیکن اس حصہ مماثلت سے متعلق دونوں سلسلوں میں ایک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کو خلود و دوام حاصل ہے جو پہلوں کو حاصل نہیں ہوا۔جیسا کہ خود اس باب میں امام بخاری نے سورۃ الانبیاء کی آیت کے حوالہ سے اس امتیاز کا ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ باب کی پہلی روایت آپ کے اسی امتیاز شفاعت کی وجہ سے نقل کی گئی ہے۔دوسری روایت کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الانبیاء تشریح باب نمبر ا۔