صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 322
صحيح البخاری جلد ۶ ۳۲۲ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء تشریح : وَوَعَدْنَا مُوسَى ثَلَاثِينَ لَيْلَةً: اس آیت کا مضمون بھی سابقہ ابواب کے موضوع سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں حضرت ہارون علیہ السلام اس ارشاد کے ساتھ جانشین مقرر کئے گئے : اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحُ وَلَا تَتَّبِعُ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ (الأعراف: ۱۴۲) اس سے ظاہر ہے کہ ان ابواب میں امام بخاری کے مد نظر در اصل ربانی خلافت حقہ ہی کا مضمون ہے۔ اس آیت کے تعلق میں شرح لفظ دگہ کے ساتھ سورۃ الانبیاء کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے، اس کا مضمون بھی یہی ہے کہ جب تک زمین کا پیوند آسمان سے قائم رہتا ہے، اس کی ترو تازگی بھی قائم رہتی ہے۔ اس کے بغیر وہ ہے۔ اس کے بغیر وہ مرجھا جاتی ہے۔ پوری آیت یہ ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ 0 ( الأنبياء : (۳) کیا کفار نے نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کا پیوند کھول دیا ( اور بارش سے زمین زندہ ہوگئی ) اور ہم نے ہر زندہ شئے پانی ہی سے بنائی ہے۔ اسی طرح وحی الہی بھی روحوں کے لئے آب حیات ہے۔ کیا پھر بھی وہ نہیں مانتے۔ اس سیاق کلام میں آسمان سقف محفوظ قرار دیا گیا ہے (الأنبياء:۳۳) اور رات و دن کے دورے کو دورانِ شمس و قمر کے ساتھ وابستہ کر کے فرماتا ہے: كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الأنبياء: ۳۴) ہر شے اپنے اپنے محور میں بے روک چل رہی ہے اور اگلی آیت میں فرماتا ہے: وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ (الأنبياء:۳۵) اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لئے دوام (یعنی ہمیشہ رہنا) نہیں مقدر کیا ۔ اس اسلوب خطاب کے معنی یہ ہیں کہ تجھے دوام بخشا ہے۔ باقی بشر سے نفی کے ۔ باقی بشر سے نفی کے اندر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اثبات کا مفہوم مضمر ہے۔ چنانچہ مابعد کی آیت میں ہے : أَفَانُ مِتَّ فَهُمُ الْخَلِدُونَ ) (1) (الأنبياء : (۳۵) (محمد رسول الله صلی ال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر تو مر گیا تو کیا وہ تیری موت کے بعد زندہ رہیں گے۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (الأنبياء : ۳۶) برنفس موت چکھے گا۔ ان آیات میں جسمانی موت وفوت کا سوال نہیں جس کے لئے سیاق کلام ہو بلکہ روحانی زندگی کی ! نا زندگی کی بقا وفنا کا سوال ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ وہ آب حیات اور سقف محفوظ قرار دیئے گئے ہیں جو ابدی واسطہ پیوند ہیں اللہ تعالیٰ اور بنی نوع انسان کے درمیان اور زندگی کا وہ کوثر ہیں جس کے ساتھ زمین کی ترو تازگی وابستہ ہے۔ آپ سے پہلے جتنے انبیاء بطور پیوند و آب حیات تھے وہ کٹ چکے۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے باب ۲۵ کا عنوان قائم کر کے دسہ کی شرح ضمنا کی اور پُر معانی آیات کا حوالہ دیا ہے جو سورۃ الانبیاء میں وارد ہوئی ہیں اور ان سے پہلے فرمایا: هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي (الأنبياء: ۲۵) یہ ذکر میرے ساتھیوں کا ہے اور ان (انبیاء) کا ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے اور فرمایا: وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سَبْحْنَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ (الأنبياء: ۲۷) اور لوگوں نے کہا کہ رحمن نے بیٹا ( دنیا کا نجات دہندہ ) اختیار کیا ہے۔ پاک ذات ہے وہ نہیں بلکہ (جو انبیاء دنیا کی حفاظت کے لئے پہلے بھیجے گئے تھے ) وہ معبود حقیقی کے پرستار تھے۔ جو عزت سے سرفراز کئے گئے۔ کتنا واضح سیاق کلام ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کے لئے ابدی رہنماء و نجات دهنده و آفتاب ہدایت اور آپ کے خلفاء ماہتاب قرار دیئے گئے ہیں جو آپ کے انوار قدسیہ کا ہر زمانے میں انعکاس کرتے رہتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔ اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔ صلى الله