صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 321
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۱ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْبَجَسَتْ حضرت ابن عباس نے کہا: انبجست کے معنی ہیں (الأعراف: ١٦١) انْفَجَرَتْ وَإِذْ نَتَقْنَا پھوٹ پڑے۔ (وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ - اور الْجَبَلَ (الأعراف: ۱۷۲) رَفَعْنَا۔ جب ہم نے پہاڑوں کو اُن پر بلند کیا ) نتقنا کے معنی ہیں ہم نے ( پہاڑ کو بلند کیا۔ ۳۳۹۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۳۳۹۸ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن کچی سے، ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے اپنے باپ سے ،ان کے باپ نے حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ سلم النَّاسُ يَصْعَقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُوْنُ سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ میں آؤں گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا ایک بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ مجھ سے پہلے ہوش سنبھالی یا طور کی بے ہوشی ہی ان کے لئے کافی سمجھی گئی۔ اطرافه ٢٤١٢ ، ٤٦٣٨، ٦٩١٦، ٦٩١٧، ٧٤٢٧۔ ۳۳۹۹ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۳۹۹ : عبد اللہ بن محمد جعفی نے مجھے بتایا۔ عبدالرزاق الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ همام سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ لَمْ يَخْتَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی اپنے أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ ۔ طرفه: ۳۳۳۰۔ خاوند سے خیانت نہ کرتی۔