صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 24
صحيح البخاری جلد ۶ ۲۴ ۵۹- كتاب بدء الخلق فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ کیا۔پھر آپ نے سلام پھیرا اور گرہن دور ہوکر ) وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ سورج روشن ہو چکا تھا۔پھر آپ لوگوں سے مخاطب فَقَالَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ہوئے اور سورج اور چاند کے گرہن کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی قدرت کے نمونوں میں إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ سے دو نمونے ہیں۔کسی کی موت سے گرہن نہیں لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا ہوتے اور نہ ہی کسی کی زندگی کی وجہ سے۔جب تم ان فَافْزَعُوْا إِلَى الصَّلَاةِ۔کا گرہن دیکھو تو ہراساں ترساں نماز کا رُخ کرو۔اطرافه ١٠٤٤، ۱۰٤٦، ۱۰٤۷، ۱۰۵۰، ۱۰٥٦، ۱۰۵۸، ١٠٦٤، ١٠٦٥، ١٠٦٦، ٤٦٢٤، ٥٢٢١، ٦٦٣١ ،۱۲۱۲ ٣٢٠٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۲۰۴ محمد بن شنی نے ہم سے بیان کیا کہ سیکی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ قَالَ (بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔اسماعیل ( بن ابی خالد ) حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: قیس (بن ابی حازم ) رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو مسعودؓ نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سورج اور لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ اند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں گہنا تے بلکہ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا وو دونوں اللہ کی قدرت کے نمونوں میں سے دو نمونے رَأَيْتُمُوْهُمَا فَصَلُّوْا اطرافه: ١٠٤١، ١٠٥٧- ہیں۔جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو۔تشریح: صِفَةُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ : اس باب میں سورج و چاند سے متعلق مشرکانہ عقائد وخرافات کا رڈ مطلوب ہے۔لفظ حُسبان سے سورۃ الرحمن کی آیت الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ کی طرف اشارہ ہے۔سورج اور چاند ایک مقررہ حساب سے گردش کر رہے ہیں۔مجاہد کا قول ہے کہ جیسے چکی حرکت کرتی ہے۔مجاہد کی یہ غیر ابن ابی شیخ کی سند سے مروی ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اَنَّهُمَا يَجْرِيَانِ عَلَى حَسَبِ الْحَرَكَةِ الرَّحَوِيَّةِ الدَّورِيَّةِ وَعَلَى وَضْعِهَا۔یہ دونوں چکی کی حرکت کی طرح دائرہ میں اور اس کی ہیئت پر محو گردش ہیں) پھر ایک اور تفسیر اس کی یہ کی گئی ہے: وَقَالَ غَيْرُهُ بِحِسَابٍ وَّمَنَازِلَ لَا يَعْدُوَانِهَا غَيْرُهُ سے مراد حضرت ابن عباس ہیں اور ان کی تفسیر کے