صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 320
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۰ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا۔ تو موسیٰ اے وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ ارنی امریکا تجھے دیکھوں۔ فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا ۔ مگر أَنْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرْنِي پہاڑ کی طرف دیکھ کہ اگر وہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تو مجھے إِلَى قَوْلِهِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ دیکھ لے گا۔ پھر جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنا جلوہ C (الأعراف: ١٤٣ - ١٤٤) دکھایا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: اے رب ! تو ہر عیب سے پاک ہے۔ میں تیری طرف ہی جھکتا ہوں اور میں اس زمانہ میں سب ایمان لانے والوں سے اول درجہ پر ہوں ۔ يُقَالُ دَكَّهُ زَلْزَلَهُ فَدُكَّتَا (الحاقة : ١٥) دَكَّهُ کے معنی ہیں اس کو ہلا دیا اور انہی معنوں میں فَدُكِكْنَ جَعَلَ الْجِبَالَ كَالْوَاحِدَةِ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ہے۔ (یعنی زمین اور پہاڑوں كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوَلَمْ يَرَ دونوں کو یکدم لرزا دیا جائے گا۔) قاعدہ کے مطابق جمع مؤنث کا صیغہ چاہیے تھا یعنی دُکكُن مگر تثنیہ کا صیغہ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَواتِ اس لئے استعمال کیا ہے کہ پہاڑ ایک ہی جنس کی چیزیں وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا ( الأنبياء: (۳۱) ہونے کے سبب سے ایک چیز (مفرد ) قرار دیئے گئے وَلَمْ يَقُلْ كُنَّ رَتْقًا مُلْتَصِقَتَيْنِ ہیں، یعنی زمین کے مقابل ہیں۔ جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا: أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا (یعنی أشْرِبُوا (البقرة: ٩٤) ثَوْبٌ مُشَرَّب زمین و آسمان دونوں ملے ہوئے تھے سو ان دونوں کا مَصْبُوعٌ۔ پیوند توڑ دیا۔ یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں کیا اور یہ نہیں فرمایا: كُنَّ رَتْقًا - یعنی آسمان اور زمین آپس میں ملی ہوئی تھیں۔ اُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (یعنی بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں داخل کردی گئی۔ کہتے ہیں : ثَوْبٌ مُشَرَّب یعنی رنگین کپڑا ، یعنی ان کے دل بچھڑے کی محبت سے رنگین ہو گئے ۔