صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 320 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 320

صحيح البخاری جلد ؟ ۳۲۰ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء وَلَمَّا جَاءَ مُوْسٰی لِمِیقَاتِنَا آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا۔تو موسیٰ وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِی نے کہا: اے میرے رب مجھے اپنا وجود دکھا تا کہ میں تجھے دیکھوں۔فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا۔مگر أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرْمِنِيْ پہاڑ کی طرف دیکھ کہ اگر وہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تو مجھے إِلَى قَوْلِهِ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ دیکھ لے گا۔پھر جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنا جلوہ دکھایا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور موسیٰ بے ہوش (الأعراف : ١٤٣ - ١٤٤) كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اَوَلَمْ يَرَ ہوکر گر پڑے۔پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: اے رب ! تو ہر عیب سے پاک ہے۔میں تیری طرف ہی جھکتا ہوں اور میں اس زمانہ میں سب ایمان لانے والوں سے اول درجہ پر ہوں۔يُقَالُ دَكَّهُ زَلْزَلَهُ فَدُكَّتَا (الحاقة: ١٥) دہ کے معنی ہیں اس کو ہلا دیا اور انہی معنوں میں فَدُكِكْنَ جَعَلَ الْجِبَالَ كَالْوَاحِدَةِ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً ہے۔(یعنی زمین اور پہاڑوں دونوں کو یکدم لرزا دیا جائے گا۔) قاعدہ کے مطابق جمع مؤنث کا صیغہ چاہیے تھا یعنی ذککن مگر تثنیہ کا صیغہ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اَنَّ السَّمواتِ اس لئے استعمال کیا ہے کہ پہاڑ ایک ہی جنس کی چیزیں وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا (الأنبياء: ۳۱) ہونے کے سبب سے ایک چیز (مفرد ) قرار دیئے گئے وَلَمْ يَقُلْ كُنَّ رَتْقًا مُلْتَصِقَتَيْن ہیں، یعنی زمین کے مقابل میں۔جیسے اللہ عزوجل نے مَصْبُوعٌ۔فرمايا: أَنَّ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا (یعنی أشْرِبُوا (البقرة: ٩٤ ثَوْبٌ مُشَرَّب زمین و آسمان دونوں ملے ہوئے تھے سو ان دونوں کا پیوند تو ڑ دیا۔یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں کیا اور یہ نہیں فرمایا: كُنَّ رَتْقًا۔یعنی آسمان اور زمین آپس میں ملی ہوئی تھیں۔أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (یعنی پچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں داخل کر دی گئی۔کہتے ہیں: ثَوْبٌ مُشَرَّبٌ یعنی رنگین کپڑا، یعنی ان کے دل بچھڑے کی محبت سے رنگین ہو گئے۔