صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 319
صحيح البخاری جلد 4 ۳۱۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء انبیاء بنی اسرائیل میں دیکھے گئے۔ظاہر ہے کہ وہ سلسلہ خاتم النبین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ختم ہوا اور شریعت اسلامیہ کی بنیاد قائم ہوئی۔علیہ صلوات اللہ والف الف سلام۔دوسری روایت ( نمبر ۳۳۹۶) میں ادَمُ طوال کے الفاظ ہیں جن میں صراحت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام گندم گوں دراز قد تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام گھنگریالے بالوں والے اور میانہ قد۔تیسری روایت (نمبر ۳۳۹۷) سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے۔انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں میں اس امر کی صراحت ہے کہ موعودہ نبی موسیٰ کی مانند ہوگا۔(دیکھئے کتاب بدء الوحی تشریح روایت نمبر ۳) قارئین مذکورہ بالا تبصرہ سے سمجھ سکتے ہیں کہ ان روایات کا سابقہ ابواب کے مضمون سے کیا تعلق ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک وہ تمام نبی فوت ہو گئے۔ان میں سے کوئی نبی زندہ نہیں جو آپ کے بعد آئے اور آپ کا جانشین ہو۔یہ خیال زمانہ فیج اعوج کی پیدائش ہے۔باب ۲۱ میں لفظ نَجیا کی شرح میں يَتَنَاجَوْنَ کے صیغہ سے جو باب تفاعل ہے یہ ذہن نشین کرا نا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ موسویہ سے تعلق رکھنے والے انبیاء کا بلحاظ شریعت آپس میں رابطہ تھا جو ان کی وفات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے منقطع ہو چکا ہے اور سورۃ مریم کی آیت إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا (مريم:۵۹) سے بھی ظاہر ہے کہ ان کا تعلق سلسلہ بعثت محمدیہ سے ہے نہ کہ موسوی سلسلہ کے انبیاء سے، کیونکہ یہ معقول نہیں کہ انبیاء تو سلسلہ موسیٰ میں مبعوث ہوں اور سجدہ شکر ہم بجالائیں۔ہمارے سجدۂ شکر بجالانے سے ظاہر ہے کہ مماثلت موسوی کی وجہ سے آیات سورۃ مریم میں ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ان میں انبیاء مبعوث ہوئے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھی اسی قسم کی رحمت سے سرفراز کی جائے گی تا کہ شریعت اسلامیہ ضیاع سے محفوظ رہے اور اسے دوام حاصل ہو۔حفاظت وتجدید کے بغیر کوئی شئے اس دنیا میں اپنی حالت پر قائم نہیں رہ سکتی۔بَابِ ٢٥ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَوَعَدْنَا مُوسَى ثَلْثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنُهَا بِعَشْرٍ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ہم نے موسیٰ سے میں راتوں کا وعدہ کیا پھر ان تمھیں راتوں کو دس اور راتوں سے ملا کر مکمل کر دیا فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً اور اس طرح اس کے رب کا مقررہ وعدہ چالیس راتوں وَقَالَ مُوْسٰی لِأَخِيهِ هُرُونَ کی صورت میں پورا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: تم میرے بعد میری قوم میں میرے قائمقام اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحُ ہوگے اور تم قوم کی اصلاح کیجیو اور مفسدوں کی راہ نہ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِین لگنا۔اور جب موسیٰ مقررہ وقت کے مطابق مقررہ جگہ