صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 318
صحيح البخاری جلد ؟ ۳۱۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء عَظِيمٌ وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيْهِ مُوسَی اور یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے موسیٰ کو نجات دی وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَ مُوسَی اور فرعون کی قوم کو غرق کیا تھا۔اس لئے موسیٰ نے اللہ شُكْرًا لِلَّهِ فَقَالَ أَنَا أَوْلَى بِمُوْسَى مِنْهُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ۔اطرافه: ٤۔۔٢، ٣٩٤٣، ٤٦٨٠ ٤٧٣٧۔کا شکریہ ادا کرنے کے لئے روزہ رکھا۔یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے زیادہ موسیٰ سے تعلق رکھتا ہوں۔چنانچہ آپ نے بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کے لئے فرمایا۔تشریح : وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا: اس اسلوب خطاب کا تعلق بھی اس کلام الہی سے ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح سرفراز فرمائے گئے۔چنانچہ یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے: اِنَّا اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ ، وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهرُونَ وَسُلَيْمَنَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا رُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا ) (النساء: ۱۶۵،۱۲۴) جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد (دوسرے) تمام ابنیاء پر وحی ( نازل) کی تھی یقینا تجھ پر ( بھی ) ہم نے وحی ( نازل) کی ہے اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور الحق اور یعقوب اور (اس کی) اولا داور عیسی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان پر ( بھی ) وحی ( نازل ) کی تھی اور ہم نے داود کو ( بھی ) ایک کتاب دی تھی اور کئی ایسے رسول ہیں جن کی خبر ہم (اس سے) پہلے تجھے دے چکے ہیں اور کئی ایسے رسول ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھ سے نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے خوب اچھی طرح کلام کیا تھا۔اس آیت کا حوالہ بھی امام بخاری کے اسی نقطہ نظر کی تائید میں ہے کہ انبیاء کے ذکر سے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی مقصود بالذات ہیں اور جو تین روایتیں اس باب کے تحت درج کی ہیں ان سے بھی مذکورہ بالا نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے۔پہلی اور دوسری روایت کا تعلق اسراء یعنی معراج نبوی سے ہے اور تیسری کا تعلق مماثلت موسوی سے اور یہ تینوں روایتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔آپ نے معراج میں گزشتہ انبیاء بنی اسرائیل سے ملاقات کی جن میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر باب کی دو روایات میں ہے جو اختصار سے منقول ہے۔اَزْدِ شَنُوءَةَ : یہ یمنی قبیلہ ہے جو عبد اللہ بن کعب بن مالک بن از د) کی طرف منسوب ہے۔داودی کا قول ہے کہ اس قبیلہ کے لوگ دراز قد تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ رَجُلٌ ضَرْبٌ سے یہی مراد ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دراز قد دیکھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو میانہ قد، سلسلہ موسویہ کا پہلا اور آخری نبی وفات شدہ