صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 315
صحيح البخاري - جلد 4 ۱۵سم ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ تَابَعَهُ ثَابِتٌ نے جواب دیا اور کہا: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ اچھے نہیں۔قتادہ کی طرح ثابت اور عباد بن ابی علی نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔بھی حضرت انس سے یہ بیان کیا۔حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اطرافه ۳۲۰۷، ۳۳۰، ۱۳۸۸۷ وَهَلْ اَنكَ حَدِيثُ مُوسى۔۔۔: وَهَلْ أَنكَ حَدِيثُ مُوسَى هِ إِذْ رَأَى نَارًا فَقَالَ تشریح: لِأَهْلِهِ امْكْنُوا إِلَى انَسْتُ نَارًا لَّعَلَّى اتِيْكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى فَلَمَّا أَنْهَا نُودِيَ يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ، إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (طه: ۱۰ تا ۱۳) یہ آیت سورۃ النازعات (آیت (۱۷) میں بھی آئی ہے۔سورۃ القصص میں بجائے رای نَارًا کے آنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نارا ہے۔(القصص:۳۰) انست کے معنی ابصرت یعنی میں نے ایک آگ کا مشاہدہ کیا ہے۔یہ لفظ آتش محبت پر بھی اطلاق پاتا ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْمُقَدَّسُ الْمُبَارَكَ - سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پہلی تجلی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: بُوْرِكَ مَنْ فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا (النمل: ۹) یعنی برکت دیا گیا ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی مبارک ہیں جو نوار الہیہ کی تلاش میں ہیں اور انوار الہیہ کا جلوہ اور آس پاس کے متلاشیان انوار الہیہ بھی مبارک ہیں۔طومی وادی کا نام ہے۔سورۃ طہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کے ضمن میں تجلیات طور کا ذکر ہے۔اس لئے امام بخاری نے اس عنوانِ باب کے تعلق میں الفاظ کے معانی جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابوعبیدہ اور مجاہد سے مروی ہیں نقل کرنے کے بعد اس کے تحت واقعہ اسراء (معراج نبوی ﷺ سے متعلق روایت درج کی ہے اور سورۃ طہ کا شان نزول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کیا ہے۔بَاب ۲۳ : وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَةَ إِلَى قَوْلِهِ مُسْرِفُ كَذَابُ (المؤمن: ٢٩) اور آل فرعون میں سے ایک شخص جو ایماندار تھا مگر اپنا ایمان چھپاتا تھا اس نے کہا: اے لوگو! کیا تم ایک آدمی کو صرف اس لئے مارتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے نشانات بھی لایا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو اس کی کی ہوئی بعض (انداری ) پیشگوئیاں تمہارے متعلق پوری ہو جائیں گی اللہ حد سے بڑھے ہوئے اور بہت جھوٹ بولنے والے کو کبھی کامیاب نہیں کرتا