صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 314
صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء عَنْ جُنُبِ (القصص:۱۲) عَنْ بُعْدِ کرتے ہیں۔اور عَنْ جُنبِ کے معنی ہیں دور سے۔وَعَنْ جَنَابَةٍ وَعَنِ اجْتِنَابِ وَاحِدٌ۔یہ اور عَنْ جَنَابَةٍ اور عَنِ اجْتِنَابِ ایک ہی ہیں۔قَالَ مُجَاهِدٌ عَلى قَدَرٍ (طه: ٤١) اور مجاہد نے کہا: جِئْتَ عَلی قَدَرِ کے معانی ہیں اس لَا تَنيَا (طه:(٤٣) لَا تَضْعُفَا مقام پر آگئے ہو جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔(اور فرمایا: ) کا يَبَسًا (طه: ۷۸) يَابِسًا مِنْ زِيْنَةِ تَنِيَا فِي ذِکرِی یعنی میرے ذکر میں تم دونوں سُست الْقَوْمِ (طه:(۸۸) الْحُلِيِّ الَّذِي اسْتَعَارُوا نہ ہونا۔يَبَسًا یعنی خشک۔اَوْزَارًا مِّنُ زِيَّنَةِ الْقَوْمِ سے مراد وہ زیورات ہیں جو فرعون کی قوم سے لئے مَوْعِدٍ۔مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ فَقَذَفَنَهَا (طه: ۸۸) تھے۔فَقَدَفَنَهَا ہم نے اس کو پھینک دیا۔القی کے أَلْقَيْنَاهَا۔اَلْقَى (طه:۸۸) صَنَعَ معنی ہیں اس نے کیا۔فَقَالُوا هَذَا الْهُكُمْ وَالهُ فَنَسِيَ مُوسَى (طه:(۸۹) هُمْ يَقُوْلُوْنَهُ مُوسَى فَنَسِی یہ بات وہ لوگ کہتے ہیں جن کا خیال أَخْطَأَ الرَّبَّ۔أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ ہے کہ موسیٰ کو اپنے رب کے متعلق غلطی لگی ہے۔افلا قَوْلًا (طه: ٩٠) فِي الْعِجْلِ۔يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ قَوْلًا یعنی کیا وہ دیکھتے نہیں کہ بچھڑا اُنہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔۳۳۹۳: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ :۳۳۹۳ پر یہ بن خالد نے ہمیں بتایا۔ہمام نے ہد بہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مَالِكٍ عَنْ مَّالِكِ بْن صَعْصَعَةَ أَنَّ حضرت انس بن مالک سے، انہوں نے حضرت مالک رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن صعصعہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ حَتَّى أَتَى نے ان سے اس رات کا ذکر کیا جس میں آپ کو سیر السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ کرائی گئی۔فرمایا: ) وہ پانچویں آسمان پر پہنچے تو دیکھا هَذَا هَارُونُ فَسَلّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ وہاں ہارون ہیں۔جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں۔عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بالأخ انہیں سلام کہیں۔میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں یہ لفظ کشمی بنی کی روایت کے مطابق ہے (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔