صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 313 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 313

صحيح البخاری جلد ۲ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا۔ سلم اسم ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے۔ جب بھی تم کسی چیز کو مضبوط کرو تو گویا تم نے اس کو بازو لگا دیا۔ وَقَالَ غَيْرُهُ كُلَّمَا لَمْ يَنْطِقُ بِحَرْفٍ اور حضرت ابن عباس کے علاوہ اوروں نے کہا: زبان أَوْ فِيْهِ تَمْتَمَةٌ أَوْ فِيْهِ فَأَفَأَةٌ فَهِيَ عُقْدَة کی گرہ یہ ہوتی ہے کہ انسان کوئی حرف نہ بول سکے یا (طه: ۲۸) اَزْرِی (طه: ۳۲) ظَهْرِي۔ اس میں تلاہٹ یا ہکلا پن ہو۔ آزدی کے معنی ہیں فَيُسْحِتَكُمْ (طه:٦٢) فَيُهْلِكَكُمْ میری پیٹھ فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ کے معنی ہیں: ور نہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کر دے گا۔ وَيَذْهَبَا المثلى (طه: ٦٤) تَأْنِيْتُ الْأَمْثَلِ يَقُوْلُ بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَی ۔ اس میں الْمُثْلی مونث ہے بِدِيْنِكُمْ يُقَالُ خُذِ الْمُثْلَى خُذِ الْأَملُ کی۔ یعنی تمہارے بہترین مذہب کو برباد نہ الْأَمْثَلَ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا (طه: ٦٥) يُقَالُ کر دے کہتے ہیں: خُذِ الْمُثْلَى، خُذِ الْأَمْثَلَ هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَّ الْيَوْمَ يَعْنِي الْمُصَلَّى (یعنی بہتر راہ اختیار کرو۔ ) ثُمَّ انتُوا صَفًّا یعنی قطار الَّذِي يُصَلَّى فِيْهِ۔ فَأَوْجَسَ (طہ: ۶۸) باندھ کر آؤ۔ کہتے ہیں: هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَ الْيَوْمَ یعنی أَضْمَرَ خَوْفًا فَذَهَبَتِ الْوَاوُ مِنْ کیا تم آج اس جگہ آئے جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔ خِيفَةً (طه: ٦٨) لِكَسْرَةِ الْخَاءِ فِي فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى یعنی موی نے جُذُوعِ النَّخْلِ (طه: ۷۲) عَلَى اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ خِيفَةُ اصل میں خِوْفَةٌ ہے۔ واو بوجہ کسرہ ماقبل کے یاء سے بدل گئی ہے اور یہ جُذُوعِ خَطْبُكَ (طه: ٩٦) بَالُكَ۔ جو کہا: فِي جُذُوعِ النَّخْلِ یہاں فِی کے معنی علی مِسَاسَ (طه:۹۸) مَصْدَرُ مَاسَّهُ کے ہیں۔ یعنی کھجور کے تنوں : کھجور کے تنوں پر لٹکا کر۔ خَطْبُک کے ساپرا مِسَاسًا لَنَنْسِفَنَّهُ (طه: ۹۸) لَنُذْرِيَنَّهُ۔ معنی ہیں تمہارا حال۔ اور مساس مصدر ہے۔ کہتے الصَّحَاءُ الْحَرُّ۔ ہیں: مَاسَّهُ مِسَاسًا - لَنَنْسِفَنَّهُ کے معنے ہیں ہم اسے اُڑا دیں گے۔ الضَّحَاءُ کے معنی ہے گرمی ۔ قُصِيهِ (القصص: ۱۲) اتَّبِعِي أَثَرَهُ اور قُضِيْهِ کے معنی ہیں اتَّبِعِی اَثَرَہ یعنی اس کے پیچھے وَقَدْ يَكُوْنُ أَنْ تَقُصَّ الْكَلَامَ چلی جا۔ اور قص کبھی بات بیان کرنے کے معنی میں بھی نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ (الكهف : ١٤) آتا ہے جیسے نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ یعنی ہم تم سے بیان