صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 312 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 312

صحيح البخاری جلد 4 ٣١٢ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس باب میں وہ تمام روایات نظر انداز کی گئی ہیں جن میں مرد مومن کے نام سے متعلق قیاس آرائی سے کام لیا گیا ہے۔قریش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدرد بھی تھے، جنہوں نے آپ کو دشمنوں کے آخری منصوبہ سے اطلاع دی اور آپ نے اپنے وطن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہجرت کی۔بَابِ ۲۲ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىهُ إِذْ رَا نَارًا إِلَى قَوْلِهِ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى اللہ عزوجل کا یہ فرمانا کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے جب اس نے ایک آگ دیکھی (طله ۱۳۱۰) انَسْتُ (طه: (١١) أَبْصَرْتُ نَارًا لَّعَلَّى اَنَسْتُ نَارًا کے معنی ہیں: میں نے ایک آگ دیکھی اتِيْكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ (طه: ۱۱) الْآيَةَ ہو سکتا ہے میں تمہیں اس سے چنگاری لا دوں۔۔۔۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْمُقَدَّسِ الْمُبَارَكُ حضرت ابن عباس نے کہا: الْوَادِي الْمُقَدَّسِ سے طُوًى اسْمُ الْوَادِي سِيرَتَهَا ( طه (۲۲) مراد مبارک وادی ہے۔طُوی اس وادی کا نام ہے۔حَالَتَهَا۔وَ النُّهى (طه:(٥٥) التَّقَى سِيْرَتَهَا کے معنی ہیں اس کی حالت۔النھی کے بِمَلْكِنَا (طه:۸۸) بِأَمْرِنَا هَوی معنی ہیں بدیوں سے بچنا۔اور بِمَلْكِنَا کے معنی ہیں (طه: ۸۲) شَقِي۔اپنے اختیار سے۔ھوی کے معنی ہیں بد نصیب ہوا۔فرغا (القصص:(۱۱) إِلَّا مِنْ ذِكْرِ فَارِغا کے معنی ہیں موسیٰ کی یاد کے سوا ہر بات سے مُوسَى رِدْاً (القصص: (٣٥) كَيْ فارغ البال ہو گئیں۔فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدَا كَرُ يُصَدِّقَنِي وَيُقَالُ مُغِيْنًا أَوْ مُعِيْنًا يُصَدِقَنِي یعنی اسے میرے ساتھ بطور مددگار کے بھیج تا کہ وہ میری تصدیق کرے۔رِدا کے معنی فریاد رس بھی بتائے جاتے ہیں۔اور یہ جو فرمایا: فَلَمَّا أَنْ اَرَادَ ان يبطش تو یه لفظ يَبْطُشُ اور يَبْطِشُ دونوں طرح وَالْحِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيْظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ آیا ہے۔يَأْتَمِرُونَ کے معنی ہیں آپس میں مشورہ لَيْسَ فِيْهَا لَهَبْ۔سَنَشُةٌ (القصص: ٣٦) کر رہے ہیں۔جذوة کے معنی ہیں لکڑی کا ایک موٹا سَنُعِيْنُكَ، كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ ٹکڑا جس میں شعلہ نہ ہو۔سَنَشُدُّ عَضُدَكَ یعنی يَبْطُشُ وَ تَبْطِشَ (القصص: ۲۰) يَأْتَمِرُونَ (القصص: (۲۱) يَتَشَاوَرُوْنَ۔