صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 311 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 311

صحيح البخاري - جلد 1 ۳۱۱ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء کہ النَّامُوس کی یہ شرح امام بخاری کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفح (۵۱۳) میں نے بلا وجہ سورۃ مریم کی آیات سے متعلق مذکورہ بالا تبصرہ نہیں کیا بلکہ ان کے مخصوص طریق بیان واستدلال سے ان کا یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں عنوان باب میں الفاظ خَلَصُوا ، نَجِيًّا اور تَلْقَفُ بطور قرینہ صارفہ ہیں جو اصل مقصود کی طرف ذہن کو منعطف کرنے کی غرض سے عنوان باب کے ساتھ درج ہیں ورنہ ان الفاظ کا جو سورۃ یوسف اور سورۃ الاعراف میں وارد ہوئے ہیں، حضرت موسی سے متعلق نفس عنوان کے ساتھ نہ کوئی تعلق ہے نہ اس کا کوئی موقع ومحل قرینہ صارفہ علم منطق کی اصطلاح ہے اور بزبان عربی اس کے یہ معنی ہیں: ایسی ضمنی بات جو ظاہری معنی سے پھیرنے والی ہو۔ پس یہ قرائن صارفہ حسب ذیل ہیں : 1- سورۃ یوسف کی آیت جس میں خَلَصُوا نَجِيًّا وارد ہوا ہے مکمل آیت یہ ہے: فَلَمَّا اسْتَيْنَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نجيا (یوسف: (۸) جب یوسف کے بھائی یوسف سے ان کا بھائی ( بنیامین) حاصل کرنے سے مایوس ہو گئے تو وہ الگ جا کر آپس میں سرگوشی ( مشورہ) کرنے لگے۔ سورۃ مریم کی آیت میں حضرت موسی ال کا اپنے رب سے مکالمہ اور راز و نیاز کا ذکر ہے۔ لفظ نجیا کے معنوی تعلق کے سوا یہاں اور کوئی تعلق نہیں۔ لیکن امام بخاری نے خَلَصُوا کے معنی اعْتَزَلُوا کر کے اس طرف توجہ پھیری ہے کہ حضرت موسی اور دیگر انبیاء جن کا ذکر سورۃ مریم میں وارد ہوا ہے وہ اپنا فرض ادا کر کے الگ ہو گئے ۔ اردو میں معزول بھی لفظ عزل سے ہے۔ غرض لفظ خَلَصُوا اور اس کا ہم معنی اعْتَزَلُوا قرینہ صارفہ ہے۔ دوسرا قرینہ صارفہ لفظ تلْقَفُ ہے۔ یہ سورۃ الاعراف آیت ۱۱۸ ، سورۃ طہ آیت ۷۰ اور سورۃ الشعراء آیت ۴۶ میں وارد ہوا ہے۔ جس کے معنی لفظ تَلْقَم سے کئے گئے ہیں۔ خَلَصُوا اور تَلْقَفُ دونوں معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں اور یہاں سمیٹنے کے مفہوم میں ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ کی شریعت کاملہ نے سابقہ شریعتوں کو اپنے اندر سمیٹا ہوا ہے۔ ان قرائن صارفہ سے آپ کے ناموس شریعت کی امتیازی خصوصیت کی طرف توجہ پھیری ہے۔ یعنی الذی يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ - حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کا ذکر قرآن مجید میں متعد د جگہ وارد ہوا ہے۔ ان میں سے سورۃ مریم کی مخصوص آیت کا انتخاب اور اس سے عنوانِ باب قائم کرنا اور پھر ایسی روایت لانا جس میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت و جبریلی تجلی اور آپ کی شریعت کاملہ کا ذکر ہو، یہ تصرف صاف طور پر بتاتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک حضرت موسی و دیگر انبیاء علیہم السلام کا ذکر قرآن مجید میں بطور انباء الغیب ( پیشگوئیاں ) ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی شریعت و اُمت سے متعلق اخبار غیبیہ ہیں۔ اس نقطہ نظر سے آیات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور اسی نقطہ نظر سے مابعد کے ابواب مع روایات قائم کئے گئے ہیں۔ یہ باب بطور تمہید ہے۔ وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ : یہ آیت سورہ مومن کی ہے جس میں فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ جب اس نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو اس کی قوم عمالقہ ہی میں سے ایک مرد مومن نے اسے مشورہ دیا کہ یہ مناسب نہیں۔ قانون میں دینی اختلاف کی وجہ کسی کا قتل خلاف عدل ہوگا اور اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کے ہدارا دہ سے آگاہ کر دیا۔