صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 310 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 310

صحيح البخاری جلد ٦ ۳۱۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ذریت ابراہیم و یعقوب کا جو موسوی سلسلہ انبیاء پر ختم ہوا اور اس کے بعد چوتھا دور حضرت خاتم النبین ﷺ کا جس کا ذکر آیت مِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا میں ہوا ہے۔اسی آیت میں ذکر ہے کہ یہ رحمانی آیات پڑھ کر سجدہ شکر بجا لایا جائے گا اور یہ بھی ذکر ہے کہ ناخلف ذریت بھی ہوگی جو نماز میں ضائع کرنے اور شہوات کی پیروی کرنے کی وجہ سے برا انجام دیکھے گی۔ان آیات کے بعد فرمایا: إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةِ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَيْئًا جَنْتِ عَدْنٍ۔۔۔۔(مریم: ۶۱ تا ۶۵) سوا اس کے جو توبہ کرلے گا اور ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا یہ (لوگ) جنت میں داخل ہو گے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔یعنی ان جنتوں میں جو ہمیشہ رہنے والی ہیں اور جن کا ( خدائے ) رحمن نے اپنے بندوں سے ایسے وقت میں وعدہ کیا ہے جبکہ (موعودہ باتیں) ان کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔یقیناً خدا کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔وہ ان (جنتوں) میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔بلکہ صرف سلامتی اور امن کی باتیں ہی سنیں گے۔۔۔۔آخری آیت کہ ہم تیرے رب کے حکم سے اترتے ہیں اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ( آیت ۶۵) واضح طور پر قرینہ ہے اس بات کا کہ آیات رحمت و موهبت باری تعالیٰ کا تعلق در اصل امت محمدیہ کے احیاء ثانی سے ہے اور آیت لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلَقْنَا وَمَا بَيْنَ ذلِکَ (مریم: ۶۵) میں اس امت کے تین زمانوں کا ذکر ہے۔زمانہ ہدایت، زمانہ فی ( سج روی ) اور زمانہ احیاء ثانی۔اگر یہ اسلوب بیان مد نظر ہو تو سورہ مریم کا عنوان کھیعص خود واضح ہو جاتا ہے۔سابقہ مفسرین نے سک کو گذلِک کا مخفف قرار دیا ہے۔اور کھا (٥) مخفف ہے صفت وھاب کا جو بار بار اس سورۃ میں دُہرائی گئی ہے۔یاء (ی) مخفف ہے يَبْعَثُ کا۔ع ص مخفف ہے وَعْدَ الصّدق کا اور کھیعص سے مراد ہے: كَذَلِكَ الْوَهَّابُ يَبْعَثُ لَكَ وَعْدَ الصِّدْقِ یعنی وہاب خدا اُمت محمدیہ کی اصلاح کے لئے خود ایسے وجود مبعوث کرے گا جو امت کی اصلاح کا کام کریں گے۔جیسا کہ فرمایا: إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مأْتِيًّا (مریم: ۶۲) یقینا یہ اس کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔سورتوں کی جبرائیلی ترتیب میں سورۃ مریم سورۃ کہف کے بعد ہے سورۂ کہف کا تعلق مسلمہ طور پر فتنہ دجال سے ہے اور اس میں بیشتر حصہ منذر ہے اور سورۃ مریم تمام کی تمام بشارت رحمت پر مشتمل ہے۔یہ اور قرینہ ہے جو مذکورہ بالا بیان کی تائید کرتا ہے کہ باب کی معنونہ آیت ان آیات میں سے ہے جن میں حضرت موئی اور دیگر انبیاء بنی اسرائیل کا ذکر مقصود بالذات نہیں بلکہ ان کے ذکر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا ذکر مقصود ہے۔یہی وجہ ہے کہ باب قائم کرنے کے بعد ایسی روایت نقل کی گئی ہے جس میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر محض ضمنی ہے۔یہ روایت کتاب بدء الوحی میں مفصل گزر چکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳) یہاں مختصر ہے اور آخری الفاظ اَلنَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِ الَّذِى يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ اُس روایت میں نہیں اس میں ہیں۔النَّامُوس کی اس شرح کا یہاں اندراج بلا وجہ نہیں۔امام بخاری کے نزدیک سورۃ مریم کی مذکورہ بالا آیات میں ان اسرار غیب کا ذکر ہے جن سے خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے بارے میں مطلع کئے گئے۔امام ابن حجر نے لکھا ہے