صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 309
صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا اللہ نے موسیٰ پر اُتارا تھا اور اگر تمہارے عہد نبوت نے مُؤَزَّرًا۔اَلنَّامُوْسُ صَاحِبُ السّرَ الَّذِي مجھے پالیا تو میں کمر باندھ کر تمہاری مدد کروں گا۔ناموس کے معنی ہیں راز دار جوان باتوں پر آگاہ کرتا يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ۔ہو جن کو وہ دوسروں سے پردے میں رکھتا ہے۔اطرافه ۳ ٤۹۵۳، ٤٩٥٥ ٤٩٥٦ ٤٩٥٧، ٦٩٨٢۔تشریح : وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسى۔۔۔۔اور تو قرآن کے مطابق موسیٰ کا بھی ذکر کر۔وہ ہمارا منتخب بندہ تھا اور رسول ( اور ) نبی تھا اور ہم نے موسیٰ کو طور کی دائیں طرف سے پکارا اور اس کو اپنے اسرار بتاتے ہوئے اپنے قریب کر لیا۔یہ سورہ مریم کی آیات میں سے ہیں۔مذکورہ بالا آیات کے بعد فرماتا ہے: وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَرُونَ نَبِيًّا (مریم) :۵۲ تا ۵۴) اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے ( بطور موہبت ) اس کا بھائی ہارون نبی عطا کیا۔قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صفت موہت کا تعلق ذریت صالحہ و نبوت سے ہے۔لفظ وھب اور اس کے مشتق الفاظ بصیفہ فعل امر ( دعائیہ ) و ماضی اور صفت وهاب ۲۳ جگہ وارد ہوئے ہیں۔ان میں سے صرف ایک جگہ انسانی عطا اور داد و دہش کا ذکر ہے۔( الاحزاب : ۵۱) باقی سب آیات میں الہی عطاء کا ذکر ہے جو ذریت طیبہ از طبقہ انبیاء سے مخصوص ہے۔ان میں سے صرف دو جگہ ذریت کے ساتھ نیک بیویاں بھی شامل ہیں۔اس سے شانِ وہابیت کا پتہ چلتا ہے۔سورہ مریم کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا ذکر ہے جس کے طفیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے بھائی ہارون نبی بطور مددگار عطا کئے گئے۔خود اس سورۃ میں صفت موہبت رحمانی کا بالنگرار ذکر ہے۔پہلے تین رکوعوں ہی میں اس کا پانچ دفعہ اعادہ ہے اور ہر بار کسی نہ کسی نبی کے عطاء کئے جانے کا ذکر ہے جو دنیا کے لئے بطور رحمت ثابت ہوا۔حضرت یحی ، حضرت عیسی ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت ہارون اور حضرت ادریس علیہم السلام یہ سب موہبت الہی تھے اور ان کا وجود صفت وہابیت کا ظہور تھا۔سورہ مریم کی پہلی آیت ہی علاوہ عنوان کھیعص کے یہ ہے: ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّاءَ - ( محمد رسول اللہ !) یہ تیرے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو زکریا پر ہوئی۔پیر فرتوت ہونے کی حالت میں جب ظاہری مادی اسباب معدوم تھے اور احیاء کی صورت انہیں نظر نہیں آتی تھی ، ان کی دعا سنی گئی اور وہ بچی نبی عطا کئے گئے۔جن سے ایک مردہ قوم کی زندگی کا دور ثانی شروع ہوا۔اس پیرایۂ خطاب اور اسلوب بیان کا مفہوم یقیناً یہ ہے کہ تیرے ساتھ وہاب ویسا ہی سلوک فرمائے گا۔یہ سیدھا سادہ مفہوم ہے جو عربی دان اور قرآنِ مجید سے واقفیت رکھنے والے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔لیکن اگر قارئین بھی ان چھ انبیاء سے متعلق آیات کا ترجمہ پڑھیں اور آیت أُولئِكَ الَّذِينَ الْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ ، وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ ، وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا (مريم: ۵۹) کو مدنظر رکھیں اور اس میں چار وقفوں پر غور کریں تو ان پر بھی واضح ہو جائے گا کہ اس میں نبوت کے چار دوروں کا ذکر ہے۔حضرت آدم کا ، حضرت نوح کا، ق ز