صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 308
صحيح البخاری جلد ؟ ۳۰۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء أَخَاهُ هُرُونَ نَبِيًّا ) (مریم: ٥٤ ) يُقَالُ نبی اس کی مدد کے لئے عطاء کیا۔نجی کا لفظ مفرد ، لِلْوَاحِدِ وَالاِثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ نَجِيٌّ ، وَيُقَالُ تثنیہ اور جمع کے لئے بولا جاتا ہے اور کہتے ہیں: خَلَصُوا نَجِيًّا (يوسف: (۸۱) اعْتَزَلُوا خَلَصُوا نَجیا یعنی مشورہ کرنے کے لئے دوسروں نَحِيًّا وَالْجَمِيعُ أَنْجِيَةٌ يَتَنْجَون سے الگ ہوئے۔اور اس کی جمع انجية ہے۔(المجادلة: ٩)۔{ تَلْقَفُ (الأعراف: ۱۱۸) يَتَنَاجَوْنَ (انہی معنوں میں ہے یعنی ) وہ آپس میں (طه: ٧٠) (الشعراء: ٤٦) تَلْقَمُ }۔راز کی باتیں کر رہے ہیں۔تلقف وہ نگلتا ہے۔وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ اور آل فرعون میں سے ایک شخص جو ایماندار تھا مگر فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَةَ إِلَى مَنْ اپنا ایمان چھپاتا تھا اس نے کہا:۔۔۔اللہ حد سے هُوَ مُسْرِفُ كَذَّاب (المؤمن: ۲۹) بڑھے ہوئے اور بہت جھوٹ بولنے والے کو کبھی f کامیاب نہیں کرتا۔۳۳۹۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۳۹۲: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَن که لیث بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا ، کہا کہ عقیل کہ ابْنِ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ نے مجھے بتایا۔ابن شہاب سے روایت ہے کہ (انہوں نے کہا : ) میں نے عروہ سے سنا۔انہوں نے عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَجَعَ النَّبِيُّ کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : ( غار حراء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ میں وہی شروع ہونے پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت يَرْجُفُ فَؤَادُهُ فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى خدیجہ کے پاس لوٹ آئے۔آپ کا دل دھڑک رہا وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ رَجُلًا تَنَصَّرَ تھا اور وہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور يَقْرَأُ الْإِنْجِيْلَ بِالْعَرَبِيَّةِ فَقَالَ وَرَقَةُ ص عیسائی ہو گئے تھے۔عربی زبان میں انجیل پڑھا کرتے تھے۔ورقہ نے پوچھا: آپ کیا دیکھتے ہیں؟ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا آپ نے ان کو حال بتایا۔ورقہ نے سن کر کہا: یہ وہی النَّامُوْسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُوسَى محرم راز شریعت نازل کرنے والا فرشتہ ہے جس کو الفاظ تَلْقَفُ تَلْقَمُ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۵۱۲)