صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 307 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 307

صحيح البخاری جلد ٦ ۳۰۷ ۶۰- كتاب احاديث الأنبياء نزدیک وہ عیسو ( بن اسحق) کی نسل سے ہونے کی وجہ سے غیر اسرائیلی نبی تھے۔(جیوش انسائیکلو پیڈیا دائرۃ المعارف ) مسلمان مورخین نے ان کا نسب ایوب بن اسوص بن تارح بن روم بن عبیص بن اسحاق بن ابراہیم لکھا ہے۔اس میں عیص بن اسحاق ہے جو دراصل عیسو معلوم ہوتا ہے۔تفصیل کیلئے دیکھئے تفسیر کبیر جلد پنجم ،سورۃ الانبیاء، آیت ۸۴ صفحه ۵۴۹ تا ۵۵۱ - رِجُلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَب: اس کے معنی ہیں بہت مال و دولت لفظ رجُل بعض جانوروں کی طرف مضاف ہو کر بہتات و کشائش یا تنگی اور فقر و فاقہ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں: رِجُلُ الْجَرَادِ سبزہ زار اور رِجُلُ الغُرَابِ تنگ حالی۔عربی ضرب المثل ہے۔صَرَّ عَلَيْهِ رِجْلَ الْغُرَابِ : أَوْقَعَهُ فِي ضَيْقٍ لَا مَخْلَصَ لَهُ مِنْهُ اے ایسی مصیبت میں ڈال دیا جس سے اس کے لئے مخلصی نہیں۔(اقرب الموارد - رجل) (لسان العرب - غرب) زبان سے ناواقف عجمیوں نے مذکورہ بالا فقرہ کا لفظی ترجمہ کر کے یہ سمجھ لیا کہ حضرت ایوب پر سونے کی ٹڈیاں آسمان سے برسنے لگیں۔اردو میں بھی محاورہ ہے: زمین سونا اُگلنے لگی۔آسمان نے سونا برسایا۔اس کا یہ مفہوم نہیں کہ سونا بر سنے لگا یا اگلا گیا۔کہتے ہیں: كَأَنْ نَبُلَهُمْ رِجُلُ جَوَادٍ گویا ان کے تیر ٹڈی دل تھے۔(النهاية في غريب الأثر - رجل) شاعر ابونجم اپنے گدھے کی تیز رفتاری کا نقشہ کھینچتا اور کہتا ہے کہ جب وہ کنکریلی زمین میں دوڑتا ہے اس کے سموں سے کنکریاں ادھر اُدھر ٹڈیوں کی طرح بکھرتی ہیں۔(لسان العرب - رجل) غرض حدیث میں کثرت دولت مراد ہے۔حضرت ایوب بہت بڑے تاجر بتائے جاتے ہیں۔أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطنُ : حضرت مولانا نور الدین خلیفہ امسح الاول رضی اللہ عنہ نے مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ سے مراد شدت پیاس لی ہے۔کیونکہ شَيْطَانُ الفَلَا (شیطانِ بیابان) کہہ کر اس سے پیاس مراد لی جاتی ہے۔الفاظ انسی مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَاب (ص: ۴۲) سے ظاہر ہے کہ انہیں کسی بیابانی سفر میں غیر معمولی تکالیف کا سامنا ہوا اور انہوں نے انتہائی صبر اور دعا سے کام لیا جوسنی گئی۔هَذَا مُعْتَسَل بَارِدٌ وشَرَابٌ مزید قرینہ ہے کہ آیت میں شیطان سے مراد شدت پیاس ہے ( جو علاوہ دیگر تکلیفوں کے تھی۔لیکن ابجو بہ پسند اسرائیلی راویوں کی قوت متخیلہ نے اصل واقعہ کو رنگ آمیزی سے کچھ کا کچھ بنا دیا ہے جو قرآنِ حکیم اور مستند حدیث میں بالکل نظر انداز ہے۔فللہ الحمد۔باب ۲۱ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَبِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّان اور تو قرآن کے مطابق موسیٰ کا بھی ذکر کر، وہ ہمارا منتخب بندہ تھا اور رسول اور نبی تھا (مریم: ۵۲) وَنَادَيْنَهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ اور ہم نے موسیٰ کو طور کی دائیں جانب سے پکارا اور الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَهُ نَجِيَّا ) (مریم: ۵۳) اس کو اپنے اسرار بتاتے ہوئے اپنے قریب کر لیا۔كَلَّمَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَّحْمَتِنَا اور ہم نے اپنی مہربانی سے اس کو اس کا بھائی ہارون