صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 306
صحيح البخاري - جلد ۲ ۳۰۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء روایت کا صحت سے کوئی تعلق نہیں اور اسی لئے اُرض بـ بر جلک کا جو غلط مفہوم سمجھا گیا ہے عنوانِ باب میں وہ دور کیا گیا ہے کہ اس کے معنی سفر کرنے اور ہجرت کرنے کے ہیں نہ پاؤں مارنے کے۔ ط جن آیات میں حضرت ایوب علیہ السلام کا مفصل ذکر آتا ہے وہ یہ ہیں: وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ارْكُضُ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلَّ بَارِدٌ وَشَرَابٌ وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِعْثًا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحْنَتْ إِنَّا وَجَدْنَهُ صَابِرًا * نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ ) (ص: ۴۲ تا ۴۵) اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو یہ کہتے ہوئے پکارا کہ مجھے ایک کافر دشمن نے بڑی سخت تکلیف اور اور عذاب پہنچایا ہے۔ (ہم نے اسے کہا کہ ) اپنی سواری کو ایڑی مار۔ یہ سامنے ایک نہانے کا پانی ہے جو ٹھنڈا بھی ہے اور پینے کے قابل بھی (یعنی صاف ہے۔) اور ہم نے اس کو اس کے اہل بھی دیئے اور ان جیسے اور بھی ( ساتھی) اپنے رحم سے دیئے اور عقل والوں کے لئے ایک نصیحت کا سامان بھی بخشا اور (ایوب سے کہا کہ ) اپنے ہاتھ میں ایک کھجور کی گچھے دار ٹہنی پکڑلے اور اس کی مدد سے تیزی کے ساتھ سفر کر (یعنی اس سے مار مار کر سواری کے جانور کو دوڑا) اور حق سے باطل کی طرف مائل نہ ہو۔ ہم نے اس (یعنی ایوب ) کو صابر پایا تھا۔ وہ بہت اچھا بندہ تھا۔ وہ یقینا خدا کی طرف کثرت سے جھکنے والا تھا۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل باتیں مذکور ہیں: ان کے صبر و دعاؤں کی قبولیت 1- حضرت ایوب علیہ السلام کی غیرم معمولی شدت تکلیف تکلیف کا دور ہونا اور اہل وعیال اور مال و منال کا حصول ۴ ہجرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ یاد دلا کر ہجرت کا ارشاد ہوا ہے۔ اس صورت میں خُذْ بيَدِكَ ضِعْثًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ کچھ سامان لے کر مکہ سے نکل جا اور تجھ سے بھی وہی سلوک کیا جائے گا۔ جو حضرت ایوب علیہ السلام سے ہوا۔ أَخُذُ الضِعت اسی مفہوم میں وارد ہوا ہے یعنی ایسا شخص جو سامان دنیا سے بہت تھوڑا سا حاصل کرنے والا ہو ( غریب الحدیث لابن الجوزی - ضغت ) اور لَا تَحنث کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی راہ نہ اختیار کر۔ حنث کے معنی ہوتے ہیں مَالَ مِنَ الْحَقِّ إِلَى الْبَاطِلِ ( اقرب الموارد - حنث ) صحیح راہ چھوڑ کر کسی ایسی راہ کی طرف نہ جھک جو بے سود ہو۔ صفت کے معنی شاخ کے بھی ہیں۔ غرض بغیر کسی دور دراز تاویل اور قصے کہانی کے آیت کا مفہوم واضح ہے۔ اس تعلق میں مفصل تشریح کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر تفسیر سورۃ الانبیاء آیت ۸۴ جلد ۵ صفحه ۵۵۲۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اپنے درس القرآن میں مذکورہ بالا الفاظ کے وہی معنی بیان کیا کرتے تھے جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں۔ حضرت خلیفہ آ رکئے گئے ہیں۔ حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحقیق : ی تحقیق میں زیادہ وضاحت و تفصیل ہے۔ جس کی تائید تاریخ عالم سے بھی ہوتی ہے اور نہایت معقول تفسیر ہے جس سے قرآن کریم کی شان بلاغت اور حقائق کا علم ہوتا ہے۔ امام بخاری کا بھی بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے خرافات بنی اسرائیل سے ہمیں محفوظ رکھا ہے۔ امام بخاری کی ترتیب ابواب سے ظاہر ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہے اور یورپین محققین کے