صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 305 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 305

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۵ : ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي تشريح : وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِي مَسَّنِيَ الضُّ الهُ تعالى ا فرمانا: وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى eeeen مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ (الأنبياء: (۸۴) اور (تو) ایوب کو ( بھی یاد کر ) جب اس نے اپنے رب کو پکار کر کہا کہ میری حالت یہ ہے کہ مجھے تکلیف نے آپکڑا ہے اور اے خدا! تو تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ صحف عہد نامہ قدیم میں سے ایک صحیفہ ایوب کے نام سے موجودہ تو رات کے نسخوں میں ہے۔ اس میں شیطان کی آزمائش کا قصہ مذکور ہے اور لکھا ہے کہ الہی آزمائش سے تنگ آکر انہوں نے اپنا منہ کھول کر اپنے جنم دن پر (نعوذ باللہ ) لعنت کی اور ایوب کہنے لگا: نابود ہو وہ دن جس میں میں پیدا ہوا اور وہ رات جس میں کہا گیا کہ دیکھو بیٹا ہوا۔ وہ دن اندھیرا ہو جائے خدا اوپر سے اس کا لحاظ نہ کرے (ایوب باب ۳ آیات ۱-۴) اور تیمانی الیفز انہیں نصیحت کرنے لگا۔ ان کا قصہ انتالیس ابواب میں ختم ہوتا ہے۔ ہمارے مفسرین نے بنی اسرائیل سے سن سنا کر ان کے قصوں کو اپنی تفسیروں میں جگہ دے دی ۔ امام بخاری کا اللہ بھلا کرے کہ انہوں نے ان تمام قصوں کو غیر مستند اور نا قابل اعتماد پا کر نظر انداز کیا ہے اور قرآن مجید کی آیات محولہ بالا کا جو مفہوم ان قصوں کے پیش نظر سمجھا جاتا ہے وہ بھی سرے سے حذف کر دیا ہے اور آیت اُركُضُ بِرِ جُلِک کا مفہوم سیدھا سادہ تیز چلنے کا بیان کیا ہے۔ یہ مفہوم قتادہ کا بسند شعبہ مروی ہے۔ اور فراء ادیب کا حوالہ بھی دیا ہے جنہوں نے آیت إِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُونَ کے معنی بھاگنے کے کئے ہیں۔ اس کے معانی میں ابن حجر نے لکھا ہے کہ ضَرَبَ بِرِجْلِهِ الْأَرْضَ - اس نے زمین میں سفر کیا۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۱۰ ) آیت اُركُضُ بر جلک سورۃ ص آیت ۴۳ میں وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح سورۃ الانبیاء آیت ۸۵،۸۴ میں حضرت ایوب کا ذکر آیا ہے۔ سورۃ الانبیاء اور سورۃ ص کی آیات کا حوالہ درج کر کے نفس مضمون کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جہاں بصراحت حضرت ایوب علیہ السلام سے متعلق یہ الفاظ ہیں : إِنَّا وَجَدْنَهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (ص: ۴۵) اختصار سے حضرت ایوب علیہ السلام کے اوصاف بیان کئے گئے کہ وہ حق تعالیٰ کے پرستار اور بوقت تکلیف اسی کی طرف جھکنے والے تھے۔ زیر باب جو روایت منقول منقول ہے۔ ہے مُککن سن ہونے کے علاوہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اللہ عنہ عنہ سے سے مروی مرد ہے جو اہل کتاب مسلمان ہوئے تھے۔ امام ابن حجر نے اس ضمن میں متنبہ کیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام سے متعلق اور کوئی روایت امام بخاری کے نزدیک مرفوع ثابت نہیں۔ البتہ ابن ابی حاتم ، ابن جریج ، ابن حبان اور حاکم نے بواسطہ ہری حضرت انس کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ جب حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری نے طول پکڑا اور ان کے دوستوں کو تعجب ہوا کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو انہیں بذریعہ وحی حکم ہوا کہ پاؤں زمین پر مارے جس کی انہوں نے تعمیل کی تو زمین سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا اور وہ اس میں نہائے اور شفایاب ہو۔ ور شفایاب ہو گئے ۔ ( فتح الباری ج جزء ۶ صفحه ۵۱۱) اس لمبی جزء (مستدرک حاکم، کتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء، ذكر أيوب بن أموص نبي الله) (صحیح ابن حبان، کتاب الجنائز، باب ما جاء فى الصبر وثواب الأمراض والأعراض) سے