صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 304 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 304

صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء رکھا گیا ہے اور جو مضمون شروع کیا گیا ہے اس پر خاتمہ ہوا ہے۔ان ابواب کے تعلق میں یہ امر قابل ملاحظہ ہے کہ جو واقعات حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کی نسبت کمزور وغیر معتبر روایتیوں کی بناء پر عام طور پر مشہور ہیں، وہ سب امام بخاری نے نظر انداز کر دیئے ہیں۔ان کمزور روایات میں سے ایک روایت بھی قبول نہیں کی۔بَابِ ۲۰ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ( قرآن مجید کے مطابق ) ایوب کا بھی حال سناجب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے دکھ پہنچا ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے (الأنبياء: ۸۴) أركض (ص:٤٣) اضْرِبْ ارُكُضُ کے معنی ہیں مار۔إِذَا هُمْ يَرْكُضُونَ کے يَرْكُضُونَ (الأنبياء:۱۳) يَعْدُونَ۔معنی ہیں اچانک وہ دوڑتے ہیں۔۳۳۹۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۳۹۱ عبدالله بن محمد جعفی نے ہمیں بتایا۔الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بتایا۔انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی صلی اللہ رضي عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ایک بار عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ حضرت ایوب بر ہنہ نہا رہے تھے کہ ان پر ڈھیروں ڈھیر سونا گرا۔وہ لپ بھر بھر کر اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔اس وقت ان کے رب نے ان کو آواز دی۔ایوب ! یہ جو تو دیکھ رہا ہے کیا میں نے تمہیں اس ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْتِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنَى سے بے پروا نہیں کر دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: لِي عَنْ بَرَكَتِكَ۔اطرافه: ۲۷۹، ٧٤٩۳۔کیوں نہیں۔مگر اے میرے رب! تیری برکت سے مجھے بے نیازی نہیں ہو سکتی۔