صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 303
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۳ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء مِنْهُ مِنْ يُوْسُفَ وَلَا تَايْتَسُوا مِنْ اسْتَيْنَسُوا کا جو لفظ آیا ہے وہ باب استفعال ہے روح الله (يوسف : (۸۸) مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ يَئِسُتُ ہے۔ سورہ یوسف میں منہ سے مراد یہ ہے کہ وہ یوسف سے ناامید ہوگئے۔ اور لا اطرافه ٤٥٢٥، 4695، 4696۔ تَيْتَسُوا مِنْ روح اللہ جو فرمایا تو اس کے معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت ) سے امید رکھو، نا امید نہ ہو۔ ۳۳۹۰: أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ حَدَّثَنَا ۳۳۹۰ : عبدہ نے مجھے خبر دی کہ عبد الصمد نے ہمیں عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن سے، عبدالرحمن نے اپنے أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا باپ سے ، ان کے باپ نے (حضرت عبداللہ ) بن عمر أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: یوسف جن کا باپ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يعقوب، اسحاق دادا، ابراہیم پر دادا ہیں، وہ خود إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بھی شریف، شریف کے بیٹے ، شریف کے پوتے، شریف کے پڑپوتے ہیں۔ ان سب پر سلامتی ہو۔ اطرافه: ٣٣٨٢، ٤٦٨٨ تشريح : لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ: یعنی یوسف اور اس کے بھائیوں کے واقعات میں طالبان حق کے لئے یقیناً کئی نشانات ہیں۔ اس باب میں آٹھ روایتیں ہیں ۔ روایت نمبر ۳۳۸۸ کا تعلق واقعہ افک سے ہے جو کتاب المغازی، باب ۳۴: حَدِيثُ الافک میں مفصل آئے گا۔ یہاں حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کے ذکر میں مختصر اور الگ سند سے بیان کی گئی ہے۔ ان کا واقعہ مشہور ہے۔ روایت نمبر ۳۳۸۹ کا تعلق آیت حَتَّى إِذَا اسْتَيْنَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا (یوسف: (11) کی شرح سے ہے۔ یعنی رسول اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان کے ماننے والے سمجھنے لگے کہ وعدہ الہی پورا نہیں ہو رہا تو اچانک ان کی نصرت کے اسباب پیدا کئے گئے۔ اس سورۃ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے متعلق آتا ہے: فَلَمَّا اسْتَيْتَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا (یوسف: (۸) جب اپنے بھائی کے حاصل کرنے میں اس سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ روایت نمبر ۳۳۹۰ باب ۱۸ میں گزر چکی ہے۔ اس کا ایک دوسری سند سے اعادہ بتاتا ہے کہ ان ابواب کا تسلسل قائم