صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 300
صحيح البخاری جلد ؟ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ نے فرمایا: اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ دے۔اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ أَنْجِ اے الله ! ولید بن ولید کو نجات دے۔اے اللہ ! الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اللَّهُمَّ کمزور مومنوں کو نجات دے۔اے اللہ ! مضر قبیلہ کو ! اشْدُدْ وَطَأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ سختی سے کچل۔اے اللہ! ان کے سال یوسف کے اجْعَلْهَا سِنِيْنَ كَسِنِي يُوْسُفَ۔سالوں جیسے کیجیئو۔اطرافه ۸۰٤٧٩٧، ۱۰۰٦، ۲۹۳۲، ٤٥٦۰، ٤٥۹۸، ٦٢۰۰، 6393، 6940۔بن ۳۳۸۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ۳۳۸۷: عبداللہ بن محمد بن اسماء بن اخی جویریہ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ مَالِكِ عَنِ الزُّهْرِيّ بتایا۔انہوں نے مالک سے، انہوں نے زہری سے أَنَّ سَعِيْدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا عُبَيْدِ أَخْبَرَاهُ روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید دونوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ ان کو بتایا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے يَرْحَمُ اللَّهُ لُوْطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى فرمایا: لوط پر اللہ رحم کرے وہ تو کسی مضبوط سہارے کی ہی پناہ لینا چاہتے تھے اور اگر میں قید خانہ میں اتنی دیر لَبِثَ يُوْسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ۔رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السَّجْنِ مَا ريتا جتنی دیر یوسف رہے۔پھر بلانے والا میرے پاس آتا تو میں ضرور چلا جاتا۔اطرافه: ۳۳۷۲، ۳۳۷۵، ٤٥۳۷، ٤٦٩٤، ٦٩٩٢۔۳۳۸۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۳۳۸۸ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ( محمد بن فضیل نے ہمیں خبر دی کہ حصین نے ہمیں عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ بتایا۔انہوں نے سفیان سے، انہوں نے مسروق سے أُمَّ رُوْمَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ لَمَّا قِيْلَ فِيْهَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت اُم رومان ہ بخاری کے بعض نسخوں میں اس جگہ عَنْ سُفْيَانَ ہے۔(دیکھئے صحیح البخارى نسخة اليونينية جز ۴ صفحه۱۵۰)