صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 297
صحيح البخاری جلد ۲ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔ اطرافه: ٣٣٩٠، ٤٦٨٨۔ ۲۹۷ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء حضرت یوسف ہیں۔ جو ابن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ تشريح : أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ: اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب پر موت کی گھڑی) آئی (اور ) جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے ( جوابا ) کہا کہ ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادوں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے، عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (البقرۃ: ۱۳۴) سورۃ البقرہ کی مذکورہ بالا آیت کے حوالہ سے انبیاء علیہم السلام کی نسبت ذکر کا تسلسل قائم کیا گیا ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مذکورۃ الصدر حوالہ جات ضمنی ہیں۔ روایت زیر باب پہلے ایک اور سند سے گزر چکی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۳۷۴) حضرت یعقوب کا نام اسرائیل الہامی نام ہے اور ایک مکاشفہ یا رویاء میں بطور پیشگوئی رکھا گیا تھا جس کا ذکر تو رات کی کتاب پیدائش باب ۳۲ آیت ۲۴ تا ۳۱ میں دیکھا جائے۔ اسی نام اسرائیل اللہ کا بہادر سپاہی ) سے ان کی قوم کا نام بنو اسرائیل ہوا۔ قرآن مجید میں اسی نام اسرائیل کی نسبت سے اس قوم کو بار بار پکارا ہے۔ تا ان کی غیرت بھڑ کے اور اپنے باپ دادا کی عزت کا پاس رکھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا بوقت وفات اپنی اولاد کو توحید باری تعالیٰ کی وصیت کرنے کا جو ذکر ہے اس بارے میں پیدائش باب ۴۸ آیت ۴ ۱۴، باب ۴۹ آیت ۲۵ دیکھئے جن میں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کی اولاد کو برکت دینے کا مفصل بیان ہے۔ بَاب ۱۹ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِه أَيْتُ لِلسَّابِلِينَ ) (يوسف : ٨) 1 اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ان پوچھنے والوں کیلئے یوسف اور اس کے بھائیوں میں (عبرت کے نشانات گزر چکے ہیں ۳۳۸۳ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۳۸۳ عبید بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔ انہوں عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ نے ابواسامہ سے،ابواسامہ نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعید بن ابی سعید نے أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ فرمایا: ان میں سے وہ جس نے سب سے بڑھ کر