صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 295
صحيح البخاری جلد ٦ ۲۹۵ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء حضرت لوط علیہ السلام کے ذکر میں اس کا حوالہ بھی بلا وجہ نہیں۔اس حوالہ سے آو آوِى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ (هود: ۸۱) کا مفہوم یہاں واضح کرنا مقصود ہے۔یعنی ان کا بھی ایک مضبوط جتھا تھا۔یہ شرح فراء نحوی کی ہے جن کے الفاظ بِمَنْ مَّعَهُ لِأَنَّهُمْ قُوَّتُهُ عنوانِ باب میں نقل کئے گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۰۴) ابو عبیدہ نے بھی آؤ آوِی اِلی رُکن شَدِيدٍ سے (عَشِيْرَةٍ عَزِيزَةٍ مَّنِيعَةٍ) نہایت قوی طاقتور قبیلہ مراد لیا ہے جو دفاع کرنے پر قادر ہو اور مقابلے میں غلبہ حاصل کرنے والا ہو۔امام ابن حجر نے امام بخاری کے مذکورہ بالا حوالہ آیت سے متعلق دو احتمالوں کا اظہار کیا ہے وَهُوَ وَهُمْ فَإِنَّهَا مِنْ قِصَّةِ مُوسَى وَالصَّمِيرُ لِفِرْعَوْنَ۔۔۔۔کہ اس کا تعلق حضرت لوط علیہ السلام کے واقعہ سے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے ہے۔ہرنیہ میں ضمیر ہ" کا تعلق فرعون سے ہے۔دوسرا احتمال یہ ہے رُكْنِهِ که (أَوْ ذَكَرَهُ اسْتِطْرَادًا لِقَوْلِهِ فِي قِصَّةِ لُوطٍ أَوْ آوِى إِلى رُكْنٍ شَدِيدٍ واقعه لوط یعنی آیت اوى إلى رُكْنٍ شَدِید کے ضمن میں نقل کیا ہے۔میرے نزدیک یہ احتمال درست ہے۔امام بخاری کے ذہن میں کسی ہمسایہ اور ہمدرد قوم کا شبخون ہے اور یہ کہ فرستادہ لوگ بطور پیشرو بھیجے گئے تھے تا حضرت لوط اور ان کے اہل بیت اور ہمنوا ساتھیوں کو شبخون سے بچایا جا سکے۔اسی امر کے مدنظر مذکورہ بالا حوالوں اور ان کی شرح کا تعلق ہے۔تَرْكَنُوا تَمِيلُوا : یہ حوالہ بھی بلا تعلق نہیں۔حضرت لوظ اور ان کے ساتھیوں کا بچانا ضروری تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ * وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنصَرُونَ ٥ (هود : ۱۱۴) اور تم ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم ( کا شیوہ اختیار ) کیا ہے نہ جھکناور نہ تمہیں ( بھی جہنم کی) آگ کی لپٹ ) پہنچے گی اور اس وقت اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ( اور مددگار ) نہ ہوگا اور تمہیں کسی طرف سے بھی ) مدد نہیں ملے گی۔اس طرح لفظ دابر کی شرح ( لفظ آخر سے ) بھی ابو عبیدہ سے منقول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِيْنَ (الحجر: ۶۷) یعنی یہ بات ہم نے اسے یقینی طور پر بتادی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جائے گی۔داہر کے معنی ہیں جڑھ جو اتنے کا آخری حصہ ہوتی ہے۔الغرض اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قوم لوط بالکل نیست و نابود کر دی جائے گی۔يُهْرَعُونَ : لفظ يُهْرَعُ كا معنی صرف اسراع ( جلدی سے آنا) نہیں۔بلکہ ایسا آنا ہے جس میں غیض وغضب اور طیش ہو۔ابو عبیدہ نے اس کا مترادف يَسْتَحِبُّونَ بیان کیا ہے۔یعنی جلدی جلدی ہانکے جار ہے ہیں۔نیز اس کے علاوہ اس میں خوف و دہشت کا مفہوم بھی ہے۔ایک شاعر کا قول ہے: بِمُعَجَلاتٍ نَحْوَهُمْ نُهَارِعُ أَيْ نُزُعَجُ مَعَ الإسراع یعنی تیز روی کی مصیبتوں کے سبب سے ہم ان کی طرف لپکتے ہیں۔يَزْعَجُونَ مَعَ الْإِسْرَاعِ یعنی اس میں علاوہ جلدی آنے کے برافروختگی اور برہمی اور جکڑنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۵۰۵) لِلْمُتَوَسِمِينَ كے معنى لِلنَّاظرین کئے گئے ہیں یعنی غور کرنے والوں کے لئے۔سورۃ الحجر آیت ۷۵ میں