صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 294 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 294

صحيح البخاری جلد ۶ ۲۹۴ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء فَأَنْكَرَهُمْ وَنَكِرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ : ضيف ابراہیم علیہ السلام کی آمد اور ضیف لوط علیہ السلام کی آمد ایک ہی غرض کے لئے تھی۔ان کی آمد سے متعلق لفظ نَكَرَهُمُ اور اَنْكَرَهُم وارد ہوا ہے۔ابو عبیدہ کے نزدیک دونوں لفظ استنگار کے معنوں میں ہیں۔یعنی ان کی آمد او پری کجھی گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں ان کی آمد سے متعلق یہ آیت ہے: فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمُ۔۔۔(هود: ۷۱) پس جب اس نے ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس (کھانے ) تک نہیں بڑھتے تو (اس نے ) ان کے (اس) فعل کو غیر معمولی سمجھا اور اس (فعل) سے خطرہ محسوس کیا۔(اس پر) انہوں نے کہا (کہ) تو خوف نہ کر ہمیں تو لوط کی قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔اسی جگہ آیت ۷۸ میں ذکر ہے کہ ان کی آمد سے حضرت لوط علیہ السلام کو تکلیف محسوس ہوئی اور وہ غمگین ہوئے۔وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمُ وَضَاقَ بِهِمُ ذَرُعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ) (هود: ۷۸) اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے تو ان کی وجہ سے اسے غم ہوا اور اس نے دل میں تنگی محسوس کی اور کہا: آج کا دن ( بہت ) سخت معلوم ہوتا ہے۔مذکورہ بالا تکلیف دہ صورت آمد دیکھ کر حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ (الحجر : ٢٣ )۔وہی آیت ہے جو باب ۱۶ کے عنوان میں مذکور ہے اور لفظ مُنْكَرُونَ، انگر سے ہے۔جس کی عنوانِ باب میں شرح بیان کی گئی ہے کہ یہ لفظ استنگار ( ناپسندیدگی) کے مفہوم میں ہے اور عنوان باب میں جس لفظ يُهْرَعُونَ کی شرح يُسْرِعُونَ سے کی گئی ہے، یہ سورۃ ھود کی آیت ۷۹ میں وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے: وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ۔اور اس کی قوم (غصہ سے ) اس کی طرف بھاگتی ہوئی آئی اور (یہ پہلا موقع نہ تھا۔) پہلے (بھی) وہ ( لوگ نہایت خطرناک ) بدیاں کرتے تھے۔اس نے کہا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے ہی گھروں میں بیاہی ہوئی ) ہیں۔وہ تمہارے لئے اور تمہاری آبرو کے بچانے کے لئے نہایت پاک دل اور پاک خیال ہیں۔پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میرے مہمانوں ( کی موجودگی ) میں مجھے رسوا نہ کرو۔کیا تم میں سے کوئی بھی سمجھ دار نہیں ہے۔سورۃ الحجر آیت اے کو اس تعلق میں پڑھیں تو وہاں ذکر ہے: قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَلَمِيْنَ انہوں نے حضرت لوظ سے کہا: کیا ہم نے باہر کے لوگوں کو (ہمارے علاقے میں) تمہارے پاس آنے سے تمہیں نہیں روکا تھا۔ان کی دعوت توحید سب آس پاس کے قبائل کو تھی۔حضرت لوظ کی مشرک قوم اس سے انہیں روکتی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے تعلقات اردگرد کے قبائل سے اچھے نہ تھے۔جس کی وجہ سے حضرت لوط علیہ السلام پر پابندی عائد تھی۔جیسا کہ آج تک بھی یہی دستور ہے کہ غیر علاقہ کے لوگ بغیر اجازت راہداری ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔غرض عاید کردہ پابندی کی خلاف ورزی دیکھ کر ان کی بہستی کے مشرک لوگ بگڑے اور معترض ہوئے۔برگه: یہ آیت فَتَوَلَّى بِرُكُنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (الذاریات: ۴۰) فرعون کی نسبت وارد ہوئی ہے۔ط