صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 293 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 293

صحيح البخاري - جلد 4 ۲۹۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ط انہوں نے کہا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تا کہ ان پر گیلی مٹی سے بنے ہوئے کنکر پے در پے ) برسائیں۔جن پر تیرے رب کی طرف سے حد سے بڑھنے والوں کو سزا دینے کے لئے نشان لگایا گیا ہے۔سورۃ النجم آیت ۵۴ میں (الْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى) اُلٹائی ہوئی بستیوں کا ذکر ہے۔نمود کا ذکر اس سے پہلے ہے اور یہ قرینہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ سے حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں کا ذکر ہے۔اس سورۃ کے بعد سورۃ القمر ہے جس میں حاصِبا کا لفظ ہے۔اس کے معنی ہیں کنکروں کا طوفان۔فرماتا ہے: إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَهُمْ بِسَحَرِه۔۔۔ہم نے ان کے تباہ کرنے کے لئے بھی کنکروں سے بھری ہوئی ہوا چلائی۔(جس نے آل لوط کے سوا سب کو تباہ کر دیا ) ہاں صبح کے وقت ( جب وہ عذاب آیا تو ) ہم نے لوط کے خاندان کو بچالیا۔یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔اس کے لئے جو شکر کرتا ہے ہم اسے اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں اور اس ( یعنی لوط ) نے ہمارے عذاب کی پہلے سے خبر دے دی تھی۔لیکن وہ نبیوں سے بحث کرنے لگ گئے۔(القمر: ۳۵-۳۷) سورۃ التحریم میں حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویوں کے متعلق آتا ہے: قِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّخِلِينَ ) (التحریم: (۱) { اور کہا گیا کہ تم دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔} آگ سے مراد جہنم کی سزا ہے۔غرض مذکورہ حوالہ جات سے مطلق تباہی کا پتہ چلتا ہے خواہ شبخون سے ہوئی ہو یا شدید طوفان سے یا زلزلے سے۔میں نے بیرون کی ترائی کا علاقہ دو دفعہ دیکھا ہے اور بحیرہ مردار تک گیا ہوں جس کا پانی سخت کھارا اور اتنا بوجھل ہے کہ میرے رفقاء سفر نے اس میں چھلانگیں لگائیں۔ان میں سے بعض تیر نا قطعا نہیں جانتے تھے۔کوئی ڈوب نہیں۔اریحیا وغیرہ بستیوں میں کسی زلزلے کے آثار کا پتہ نہیں چلا۔البتہ یہ بتایا گیا کہ سروم وغیرہ تباہ شدہ بستیاں وہاں تھیں جہاں بحیرہ مردار ہے۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی تباہی کے متعلق لفظ صَيْحَةٌ آتا ہے جو جنگ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور اچانک عذاب کے معنوں میں بھی وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ قوم نوح و عاد و ثمود، قوم لوط اور اصحاب الا یکہ والوں کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد کفار قریش کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا يَنظُرُ هَؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ٥ (ص: ۱۲ تا ۱۶) اور یہ لوگ صرف ایک اچانک آنے والے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ظاہر ہے کہ مکذبین رسول اللہ ﷺے جنگوں میں تباہ ہوئے اور اس تباہی کے لئے صَيْحَةٌ وَّاحِدَةً وارد ہوا ہے۔امام ابن حجر لکھتے ہیں: وَلَمْ اَعْرِفْ وَجْهَ دُخُولِهِ هُنَا لَكِنْ لَعَلَّهُ أَشَارَ إِلَى قَوْلِهِ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ فَإِنَّهَا تَتَعَلَّقَ بِقَوْمٍ لُوطٍ ( فتح البارى جزء ۶ صفحه ۵۰۵) یعنی مجھے معلوم نہیں کہ مذکورہ بالا آیت کا یہاں قوم لوط کی تباہی کے تعلق میں ذکر کی کیا وجہ ہے؟ شاید آیت فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ (الحجر: ۷۴) کی طرف اشارہ ہے۔یعنی موعود عذاب نے لوط کی قوم کو دن چڑھتے ہی پکڑ لیا۔اس میں اس قوم کی تباہی کا ذکر ہے۔امام موصوف کا یہ قیاس درست معلوم ہوتا ہے۔اس تباہی کی بابت جو مذکورہ بالا حوالے دیئے گئے ہیں، ان سے یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ ان کی تباہی بذریعہ یلغار و شبخون ہوئی ہو۔اس لئے مکذبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تباہی سے متعلق آیت کا حوالہ بلا وجہ نہیں۔