صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 292
صحيح البخاری جلد 4 ۲۹۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء (فلسطین) میں رہے۔اسی باب میں ذکر ہے کہ علاقہ سدوم میں انہوں نے سکونت اختیار کی اور یہاں کے باشندے نہایت بدکار اور گنہگار تھے اور مضافات کے چار بادشاہوں اور عمالیق اور امور یوں کے درمیان ایک لڑائی کا بھی ذکر ہے جس میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے بال بچے اور دیگر ساتھی بطور اسیر جنگ ان کے قبضہ میں آئے اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے تین سو اٹھارہ مشاق خانہ زادوں کو لے کر دان مقام تک ان بادشاہوں کا تعاقب کیا اور رات کو انہوں نے غول غول ہو کر ان پر دھاوا بولا اور مارا اور خو بہ تک جو دمشق کے بائیں ہاتھ ہے، ان کا پیچھا کیا اور وہ سارے مال کو اور اپنے بھتیجے لوط کو اور اس کے مال اور عورتوں کو بھی اور دوسرے لوگوں کو واپس پھیر لائے اور ملک صدق سالم کے بادشاہ نے جو خدا تعالیٰ کا کا ہن تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استقبال کیا اور ان کو مبارک دی۔( پیدائش باب ۱۴ آیات ۱ تا ۲۰) عہد قدیم کی تاریخ سے مذکورہ بالا اقتباس نقل کیا گیا ہے کہ اس سے وہ علاقہ متعین ہوتا ہے جس کی تباہی کا ذکر سورۃ الاعراف کی مذکورہ بالا آیت میں ہے اور حضرت لوط علیہ السلام کی مخالفت کے نتیجہ میں یہ بتا ہی ان پر آئی۔قرآن مجید میں حضرت لوط علیہ السلام بھی نبی قرار دیئے گئے ہیں۔برخلاف بیان تو رات کے کہ وہ نبی چھوڑ ایک غیر صالح شخص معلوم دیتے ہیں۔( پیدائش باب ۱۹ آیات ۳۰ تا ۳۸) بحالیکہ باب ۱۸ میں ذکر ہے کہ خداوند نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کیا کہ سدوم کی بستی سے نیکوں کو بچایا جائے گا اور تباہ ہونے نہیں دیا جائے گا اور وہ اس تباہی سے بچائے گئے۔یہ تباہی کس قسم کی تھی ؟ سورۃ الاعراف کی مذکورہ بالا آیت میں یہ مطر سے تعبیر کی گئی ہے۔مصر کے معنی ہیں برساؤ۔اور سورة هود آیت ۸۳ میں فرماتا ہے : فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِحِيْلٍ مَّنضُودٍہ یعنی جب ہمارا فیصلہ آگیا تو ہم نے اس ( بستی ) کو تہ و بالا کر دیا اور اس پر ہم نے تہ بہ تہ خشک مٹی سے بنے ہوئے پتھر برسائے۔یہی مضمون سورة الحجر آیت ۷۵ میں ہے۔اور سورۃ الشعراء آیت ۱۷۴ میں بھی ایک بُرے برساؤ کا ذکر ہے۔فرماتا ہے : وَامْطَرُنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ، فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِینَ۔ہم نے ان پر بر ساؤ کیا۔بہت برا ہے ان کا وہ برساؤ جنہیں خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہو۔سورۃ النمل آیت ۵۹ میں بھی یہی الفاظ ہیں: وَامْطَرُنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۚ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِینَ۔سورۃ العنکبوت آیت ۳۵ میں بجائے مَطَرًا، رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ کے الفاظ ہیں۔فرماتا ہے: إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ہم اس بہتی پر ان کی نافرمانی کی وجہ سے آسمان سے ایک عذاب نازل کرنے والے ہیں۔رجز کے معنی ہیں عذاب، سزا۔مِنَ السَّمَاءِ کے معنی ہیں آسمان سے یعنی ایسی سزا جو اٹل ہو۔اس کے لئے الفاظ رِجْرًا مِّنَ السَّمَاءِ استعمال ہوئے ہیں۔سورۃ الصافات آیت ۱۳۷ میں لفظ تدمیر ہے جس کا تعلق عمارتوں کی تباہی سے ہے۔فرماتا ہے: ثُمَّ دَمَّرُنَا الْآخَرِينَ لوط اور اس کے ساتھیوں کو نجات دینے کے بعد دوسروں کو تباہ کر دیا۔سورۃ الذاریات میں اس عذاب کو حِجَارَةً مِنْ طِينٍ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قول بایں الفاظ منقول ہے: قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُجْرِمِيْنَ لِمُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِيْنٍ مُسَوَّمَةٌ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ) (الذاريات: ۳۵۲۳۳)