صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 291
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۱ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء يُهْرَعُونَ (هود: ۷۹) يُسْرِعُوْنَ۔ دَابِرَ يُهْرَعُونَ کے معنی ہیں وہ دوڑتے آئے ۔ دَابِرٌ (الحجر: ٦٧) آخر صيحة (يس: ٣٠، ص: (١٦) کے معنی ہیں آخر تک ۔ صَيْحَةٌ کے معنی ہلاکت ۔ هَلَكَةٌ لِلْمُتَوَسِمِينَ (الحجر: ٧٦) لِلْمُتَوَسِّمِینَ کے معنی ہیں غور سے دیکھنے والوں لِلنَّاظِرِينَ ۔ لَبِسَبِيْلِ (الحجر: ۷۷) کے لئے۔ لَبِسَبِیل کے معنی ہیں راستے ہی میں ہیں۔ لَبِطَرِيقِ۔ ٣٣٧٦: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ حَدَّثَنَا ۳۳۷۶ : محمود ( بن غیلان ) نے ہمیں بتایا کہ ہم أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سے ابواحمد (محمد بن عبداللہ زبیری) نے بیان کیا کہ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ سَفیان ثوری ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ (بي) سے ۔ انہوں نے اسود بن یزید ) ۔ زید ہے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود ) رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ مُّدَّكِرٍ (القمر: ١٦ ) ۔ نے (سورۃ القمر کی اس آیت کو ) یوں پڑھا: فَهَلْ مِنْ مدَّكِر ۔ پس ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا } اطرافه: ٣٣٤١، ٣٣٤٥ ٤٨٦٩ ، ٤٨٧٠، ٤٨٧١ ٤٨٧٢ ، ٤٨٧٣، ٤٨٧٤۔ :۔۔۔۔ ے ہیں وَلُوطًا ۔ میں بھی یہ آیات چند الفاظ کے فرق سے ہے تشريح : وَلَوْطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ : سورة الاعراف میں إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ آتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ ۔۔۔ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذِرِينَ ) (الأعرا) ه (الأعراف: (۸۱) اور (ہم ۔ اور (ہم نے ) لوط کو بھی (اس کی قوم کی طرف رسول کر کے بھیجا تھا جب اس نے ( جا کر) اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری قوموں میں سے کسی نے نہیں کی تھی۔ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت کے ارادہ سے آتے ہو۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے بڑھنے والی قوم ہو۔ تو رات نے حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق بتایا ہے کہ وہ حاران کے بیٹے تھے اور حاران حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بھائی تھا۔ لکھا ہے کہ تاریخ ابو ابراہیم کے دو اور بیٹے محور اور حاران پیدا ہوئے ۔ اس بیان کی رو سے حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سگے بھتیجے ہیں۔ ( پیدائش باب ۱۱ آیت (۲۷) اور انہوں نے اپنی بستی اور سے ان کے ساتھ ہجرت کی ۔ ( پیدائش باب ۱۱ آیت (۳) اور باب ۱۲ سے ظاہر ہے کہ جب وہ بحکم الہی اپنی ہجرت گاہ حاران سے کنعان کی طرف چلے تو حضرت لوط بھی ان کے ساتھ تھے اور باب ۱۳ میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے بمشورہ حضرت ابراہیم علیہ السلام برون کے نشیب کا سرسبز علاقہ اپنے لئے چنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام خود علاقہ کنعان