صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 290
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۰ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء تَجْهَلُونَ فَمَا كَانَ جَوَابَ جہالت کے کام کرتے ہو۔ پھر اس کی قوم سے کوئی قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ جواب نہ بنا۔ سوا اس کے کہ یہ کہا: اپنی بستی سے تم لوط مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أَنَاسٌ کا خاندان نکال دو۔ یہ تو ایسے لوگ ہیں جو پاکیزہ بنتے يَتَطَهَّرُونَ فَأَنْجَيْنَهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا ہیں ۔ پھر ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو بچالیا، سوا اُس کی بیوی کے جس کے لئے ہم نے فیصلہ کر دیا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَهَا مِنَ الْغُبِرِينَ ) کہ وہ ان پیچھے رہنے والوں میں ہی رہے اور ہم نے وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ ان پر مینہ برسایا اور بُرا ہی مینہ برسا ان پر جنہیں الْمُنْذَرِينَ ) (النمل: ٥٥-٥٩) خطرے سے پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ٣٣٧٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۳۷۵ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں خبردی خبر دی کہ ابوالزناد نے ہم رناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوْطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى لوڈ کو اللہ بخشے وہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ میں جانا رُكْنٍ شَدِيدٍ۔ چاہتے تھے۔ اطرافه ۳۳۷۲، ۳۳۸۷، ٤۵۳۷، ٤٦٩٤، ٦٩٩٢۔ الَ لُوْطِ الْمُرْسَلُوْنَ ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُونَ بَاب ١٦ : فَلَمَّا جَاءَ الدُ جب بھیجے ہوئے لوط کے خاندان کے پاس آئے۔ لوط نے کہا: تم تو اوپرے لوگ ہو (الحجر: ٦٢ - ٦٣) بركنه (الذاريات : (٤٠) بِمَنْ مَّعَهُ فَتَوَلَّى بِرُكْنِہ یعنی اپنے ساتھیوں سمیت پیٹھ موڑ کر لِأَنَّهُمْ قُوَّتُهُ تَرْكَنُوا (هود: ١١٤) چل دیا۔ ان کو اس لئے رکن کہتے ہیں کہ وہ اس کی تَمِيلُوْا فَأَنْكَرَهُمْ وَنَكِرَهُمُ قوت ہوتے ہیں ۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا ۔۔۔ یعنی جو ظالم ہیں تم ان کی طرف نہ جھکو۔ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ۔ انْكَرَ، نَكِرَ اور اِسْتَنْكَرَ کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی انہیں اوپر اسمجھا۔