صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 285
صحيح البخاری جلد ٦ ۲۸۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء آپ کو کھلے الفاظ میں بے شمار برکات کے وعدے دیئے گئے تھے اور جب اولاد پیدا ہوئی تو آپ کے عمل سے آپ کے مکاشفات کی تعبیر امر واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وادی فاران میں متمکن کیا گیا۔جہاں ایک قدیم بیت اللہ کی ازسرنو بنیاد اٹھائی گئی اور دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام جبل مور یا پر ایک بیت ایل کے پاس ٹھہرائے گئے اور اسی پہاڑ پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے قیام و دعوت توحید کا تعلق ہے اور حضرت موسیٰ کے لئے جبل طور مخصوص کیا گیا اور پھر آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بھی حسب تصریح یسعیاہ نبی (علیہ السلام ) جبال فاران سے ہوا۔اس طرح واقعات نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مکاشفہ کی تعبیر آشکار کر دی ہے اور ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ایمان ویقین کو وحی و مکاشفات سے بڑھ کر اور کونسی شئے مضبوط کرسکتی ہے۔خصوصاً جبکہ بشارات کا ایک حصہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ چکے ہوں۔یہ امر مذکورہ بالا واقعہ مکاشفہ ہے جو قدرت احیاء سے متعلق ہے۔آیات کے سیاق وسباق سے واضح ہے جس کا موضوع ہی مردہ قوم کی زندگی سے ہے۔اس سے قبل حضرت حز قیل علیہ السلام کے مکاشفہ کا ذکر ہے جو ان کی کتاب کے باب ۳۷ میں بیان ہوا ہے۔اور ان کے مکاشفہ سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کا ذکر ہے جس کا موضوع بھی امانت و احیاء سے ہے۔غرض سارے رکوع کی آیات کا موضوع ہی قدرت امانت اور ایسے احیاء سے ہے (فَبُهِتَ الَّذِي كفر) جس سے کفار دنگ رہ جائیں اور آج تک غیر مذاہب میں سے منصف مزاج، روشن ضمیر اور مذہبی وملی تعصبات سے آزاد اشخاص غیر مبہم الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں اور انفاس قدسیہ کی برکت سے حیرت انگیز معجزہ احیاء کے معترف ہیں۔نہ صرف عربستان کے اندر بلکہ اس کے مشارق و مغارب اور شمال و جنوب کے ممالک میں جو حیرت انگیز اور دیر پا انقلاب واقع ہوا ہے، وہ اسلامی فتوحات کی وسعت سے ظاہر ہے کہ دو صدیاں نہیں گزرنے پائیں بلکہ حضرت عثمان کی خلافت کے ایام ہی میں شام و مصر اور حبشہ و سوڈان اور ایران و خراسان، باختر و بیخ و بخارا، بلا دافغانستان اور شمالی ہند اور شمالی افریقہ کی معروف آبادیاں اور بحر متوسط کے متعدد جزائر سپین و پرتگال اور بر فرانس کے ایک حصہ پر اسلامی پھر یرا لہرا رہا تھا اور یہ فتوحات صرف سیاسی قسم کی نہ تھیں بلکہ افکار و کردار پر معنوی اعتبار سے اثر انداز ہونے کے علاوہ دور رس نتائج پیدا کرنے والی ثابت ہوئیں اور تین صدیوں کے بعد جو وقفہ واضمحلال پیدا ہوا ہے، وہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح پیشگوئیوں کے مطابق ایک عارضی وقفہ ہے جس کے بعد قتل دجال کا قیامت خیز واقعہ اپنی پوری تفاصیل سے بروئے کار لایا جانے والا ہے۔اور اس کے بعد احیاء ثانی کا وہ دور شروع ہونے والا ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کے مطابق تمام دنیا کی قومیں برکت پائیں گی۔غرض نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس موعودہ احیاء کے بارے میں کوئی تذبذب تھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو۔اتفاق تصور کریں یا سچ مچ مشیت الہی سمجھیں کہ دنیا بھر کے انقلابات امانت و احیاء کی تاریخ کا گہوارہ اور اصل مرکز مشرق وسطی کا وہ علاقہ ہے جس کا نام حلال خصیب ہے جو طور سینا کے دامن سے شروع ہوتا، وادی فاران و یتیما