صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 284 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 284

صحيح البخاری جلد 4 ۲۸۴ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء ایک حضرت لوط کے کلام سے قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةُ اَوْ اوِى إِلى رُكْنٍ شَدِيده (هود: ۸۱) اس نے کہا: کاش مجھے تمہارے مقابلہ میں کسی قسم کی ) قوت (حاصل) ہوتی ( تو میں تمہارا مقابلہ کرتا لیکن اگر یہ نہیں تو یہی صورت باقی ہے کہ میں ایک زبر دست جائے پناہ کی طرف جھکوں۔یہاں ان کا قول او اوِى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ شک کے مفہوم میں وارد نہیں ہوا۔بلکہ حرف او ، بل کے معنی میں ہے۔یعنی مجھے ایک نہایت زبردست سہارے کی پناہ حاصل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مفہوم کو الفاظ يَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدِ سے بیان فرمایا ہے اور جیسا کہ ان کے نہایت قومی ایمان باللہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں نے ان سے کہا: يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يُصِلُوا إِلَيْكَ (هود: ۸۲) یعنی اے لوط ! ہم یقینا تیرے رب کے فرستادہ ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ تجھ تک ہرگز نہیں پہنچیں گے۔دوسری مثال آپ نے اپنے ایمان و عرفان کامل اور توکل علی اللہ کے انتہائی مقام کی دی۔فرمایا: اگر میں حضرت یوسف کی طرح قید خانہ میں ہوتا اور مجھے بادشاہ کی طرف سے بلایا جاتا تو میں فوراً چلا جاتا۔حضرت یوسف کی طرح اپنے خلاف الزام دینے والی عورتوں سے پوچھنے کا مطالبہ نہ کرتا۔(یوسف:۵۲٬۵۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ آپ کی نظر اللہ تعالیٰ پر تھی۔لوگوں کی چہ میگوئیاں آپ کی چشم حقیقت بین میں بے حقیقت تھیں۔آپ ماسوی اللہ کو محض ایک مردہ یقین کرتے تھے۔اس لئے غیر اللہ کے سامنے اپنی صفائی کا سوال ہی آپ کے دل میں پیدا نہ ہوتا اور بادشاہ کے بلانے پر آپ فورا چلے جاتے۔کتنا عظیم الشان فرق ہے، آپ کے عرفان میں اور حضرت یوسف کے عرفان میں۔مذکورہ بالا مثالوں سے حضرت ابراہیم کے مقام عرفان ویقین کو بہت ارفع بتایا گیا ہے۔کجا یہ کہ ان کے قول وَلَكِن ليَطْمَئِنَّ قَلْبِی کوئی شک پر محمول کیا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی ایسا نشان دیکھنا چاہتے ہیں جس سے انہیں اطمینان حاصل ہو کہ ان کی بعثت کی غرض و غایت پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔چنانچہ آپ پر بحالت مکاشفہ ظاہر کیا گیا کہ چار طیور روحانیہ کی تربیت کے ذریعہ یہ غرض مکمل ہوگی۔فَصُرُهُنَّ إِلَیک کے معنی ہیں کہ انہیں سیدھا اور اپنے ساتھ مانوس کر کہ وہ تیری پیروی کریں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک پہاڑ پر ٹھہرا۔پھر انہیں بلا کہ وہ تیرے پاس پرواز کرتے ہوئے آئیں اور تیری دعوت کو پوری جد و جہد کے ساتھ پہنچائیں۔وَاعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔آیت کے اس آخری حصے سے ظاہر ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام میں صفت عزیزیت، حکیمیت کی نسبت اضافہ پر اضافہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کی وحی و مکاشفہ سے آپ کے دل کو کامل اطمینان حاصل ہوا کہ جس غرض و غایت کے لئے وہ مبعوث ہوئے ہیں وہ غرض کمال کو پہنچے گی۔بعض مفسرین نے آیت فَخُذُ أَرْبَعَةٌ مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ۔۔۔۔کو مثال پر محمول کیا ہے۔لیکن حضرت راہیم علیہ السلام کی درخواست رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى سے ظاہر ہے کہ آپ کو ئی نشان دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ کی یہ خواہش مشاہدہ محض مثال سے پوری نہیں ہو سکتی۔بلکہ آپ کو بذریعہ وحی و مکاشفہ دور دراز زمانے سے متعلق واقعات کا مشاہدہ کرایا گیا ہے۔جن کا تعلق آپ کی اغراض بعثت سے ہے اور جیسا کہ کتاب پیدائش کے حوالوں سے بتایا جاچکا ہے کہ آپ سے بڑھاپے کی عمر میں اور مایوس کن حالات میں ذریت طیبہ اور ایک پاکیزہ اطوار نسل کا وعدہ کیا گیا اور