صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 286
صحيح البخاری جلد 4 ۲۸۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کو چھوتا ہوا شام کے جنوبی اطراف میں گزرتا اور ارض فلسطین تک ممتد ہے۔اسی مبارک علاقے کے وہ مقدس پہاڑ ہیں جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں نے برکت دی اور جو ان کی ذریت کے ورثے میں آئے اور جہاں سے طوفانِ نوح کے بعد انسانی تمدن و تہذیب کے نشو و نما کا آغاز ہوا ہے۔تاریخ کا یہ حصہ تفصیلات کا محتاج ہے مگر شرح صحیح بخاری میں اس کی گنجائش نہیں۔مصر جو قدیم ترین تہذیب کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس کے بانی مبانی وہ عربی اقوام ہیں جو تاریخ قدیم میں گڈریوں کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔انگریزی میں ان کا نام Hyksos یا Shepherd Kings ہے۔عمالقہ و فراعنہ مصر نے ان سے جنم لیا اور ایک عظیم مملکت کی بنیاد ڈالی۔دیکھئے کتاب The Martyrdom of Man, Chapter 1: War, Egypt یہ بدوی اقوام مصر میں حضرت مسیح علیہ السلام سے تقریبا دو ہزار سال قبل حکمران تھیں۔تاریخ عرب میں ملوک الرعاة کے نام سے مشہور ہیں۔رعاة جمع ہے رائی کی جس کے معنی ہیں چرواہا۔خلاصہ یہ کہ آیت فَصُرُهُنَّ کا تعلق ایک عظیم الشان مکاشفہ اور وحی الہی سے ہے۔جس کی تعبیر امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ واضح سے واضح تر ہوتی چلی گئی ہے۔بَابِ ۱۲: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَاذْكُرْ فِى الْكِتَبِ اِسْمُعِيْلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا تم اسماعیل کا ذکر قرآن مجید کے بیان کے مطابق سناؤ۔یقینا وہ وعدے کا سچا تھا (مریم: ٥٥) ۳۳۷۳: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۳۷۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حاتم بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید ( عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بن ابی عبید سے، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُوْنَ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلہ کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو آپس میں تیراندازی کر رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کے بیٹو! ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيْلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ تیراندازی کرو۔کیونکہ تمہارے دادا تیر انداز تھے۔رَامِيَّا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ تیراندازی کرو۔اور میں فلاں ( یعنی ابن اور ع ) کے فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيْهِمْ فَقَالَ بیٹوں کے ساتھ ہوتا ہوں۔(حضرت سلمہ نے) کہا: ان رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دو فریقوں میں سے ایک نے اپنے ہاتھ روک لئے۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ