صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 283 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 283

صحيح البخاری جلد 4 ۲۸۳ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء شرح: وَنَبِّئُهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ: محولہ آیت حصہ ہے سورۃ الجر کی ان آیات کا جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان آنے کا ذکر ہے اور بڑھاپے کی عمر میں انہیں ایک بڑے عالم بیٹے کی بشارت دی گئی۔مہمانوں کی یہ آمد نا گہانی تھی اور غیر معمولی حالات دیکھ کر آپ کو خوف محسوس ہوا۔جس کا اظہار آپ نے اپنے مہمانوں سے کیا۔مہمانوں نے کہا: آپ کسی بات کا خوف نہ کریں۔پھر انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک لڑکا دیئے جانے کی بشارت دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک منذر خبر بھی دی کہ وہ ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔سورۃ الحجر کی ان آیات سے سنت اللہ ظاہر ہے کہ امانت و احیاء کی دو تقدیریں پہلو بہ پہلو کارفرما ہوتی ہیں۔ان آیات کے سیاق کو مد نظر رکھتے ہوئے عنوانِ باب میں سورۃ البقرہ کی آیت کے حوالے کی مناسبت ظاہر ہے اور روایت زیر باب سے اس امر کی نفی کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے متعلق کوئی شک تھا۔پوری آیت یہ ہے: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ - قَالَ بَلَى وَلَكَنُ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ، قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةٌ مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيْنَكَ سَعْيًا ، وَاعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) (البقرة : (۲۶) اور ( اس واقعہ کو یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اے میرے رب ! مجھے بتا کہ تو مردے کس طرح زندہ کرتا ہے۔فرمایا کہ کیا تو ایمان نہیں لا چکا۔(ابراہیم نے ) کہا: کیوں نہیں (ایمان تو بے شک حاصل ہو چکا ہے ) لیکن اطمینان قلب کی خاطر ( میں نے یہ سوال کیا ہے ) فرمایا: اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سیدھا لے۔پھر ہر ایک پہاڑ پر ان میں سے ایک (ایک ) حصہ رکھ دے۔پھر انہیں بلا ، وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ط و ط ان آیات میں فَصُرُهُنَّ کا لفظ آیا ہے، اس کا معنی قیمہ کرنا جو بعض روایات میں وارد ہوا ہے، وہ مردود ہے۔یہ معنی اسرائیلیات میں سے ہیں۔جب صَارَ يَصُورُ کے ساتھ حرف جر الی بطور صلہ استعمال ہوا ہو تو اس کے معنی مائل کرنے اور مانوس کرنے کے ہوتے ہیں۔جیسا کہ امام ابن حجر نے اس کے معنی بحوالہ عیاض اَمِلُهُنَّ بیان کئے ہیں اور لکھا ہے کہ کاٹنے کے معنی غیر معروف ہیں۔ابن الحسین نے مائل کرنے کے معنی کی تائید کی ہے۔(فتح الباری، شرح کتاب التفسير سورة البقرة ، باب (۴۶) عربی زبان میں کہتے ہیں : صَارَ الْعُصْنَ إِلَيْهِ - شاخ کو اپنی طرف جھکایا تا پھل توڑا جائے۔(اقرب الموارد - صار يصور ) پس فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ کے معنی اپنی طرف مائل کرنے کے ہیں نہ کہ قیمہ کرنے کے۔نَحْنُ اَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ : اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کواللہ تعالی کی قدرت احیاء کے بارے میں قطعا کوئی شک نہیں تھا۔اگر ان کی نسبت یہ خیال درست ہو تو پھر ہم ایسے خیال کرنے کے زیادہ سزاوار ہیں۔لیکن ہمیں تو اللہ کی قدرت احیاء کی نسبت کوئی شک نہیں۔پھر حضرت ابراہیم جیسے عظیم الشان نبی کے بارے میں ایسا خیال کیونکر درست ہو سکتا ہے، یہ مفہوم ہے اس جملے کا۔ان الفاظ سے اس غلط خیال کی نفی فرمائی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی شک تھا اور اس اسلوب کلام کی دو مثالیں دے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مدعا ومنشا کو واضح کیا ہے۔